اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے بھی سخت سزاؤں کا شکنجہ تیار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کھیل کو کرپٹ عناصر سے بچانے کیلیے کوشاں ہے، اس حوالے سے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں،کچھ عرصے قبل تمام ممبر بورڈز سے کہا گیا تھا کہ وہ گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ اپنائیں، تنازعات کی صورت میں مقامی قوانین کے تحت فیصلہ ہوگا۔

 حال ہی میں پی سی بی گورننگ بورڈ میٹنگ میں شرکاء کو لیگل ڈپارٹمنٹ کے آفیشل نے نئے قوائد پر بریفنگ دی تھی۔

انہیں بتایا گیا تھا کہ آئی سی سی کی ہدایت پر گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ اپنایا جائے گا، جس کے لیے پروسیجرل ردوبدل کی اجازت درکار ہے، ارکان نے اس کی منظوری دے دی تھی۔

ذرائع کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی سخت قوانین لاگو ہوں گے، کرپشن پر سخت سزائیں دی جائیں گی، پابندی کے ساتھ جرمانے بھی عائد ہوں گے، البتہ کھلاڑیوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

اگر کسی نے مشکوک رابطے کی ملکی اینٹی کرپشن یونٹ کو اطلاع نہیں دی تو وہ بھی قصوروار قرار پائے گا، مشکوک شخص سے کوئی تحفہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سزائیں جرم کی نوعیت، ارادے، سابقہ ریکارڈ اور تعاون کو مدنظر رکھ کر دی جائیں گی۔ پہلی بار جرم کرنے والوں نے اگر تحقیقات میں تعاون کیا تو کم سزا ملے گی، ایک سے زائد بار غلطی دہرانے والوں پر کھیل کے دروازے تاحیات بھی بند کیے جا سکیں گے۔

اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت  میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ پر پانچ سال سے تاحیات پابندی کی سزا ہے، کرکٹ پر شرط لگانے پر کیس کی نوعیت دیکھتے ہوئے ایک سے پانچ سال کی سزا دی جا سکے گی۔

ٹیم کی اندرونی معلومات بتانے والا بھی ایک سے پانچ سال پابندی کی زد میں آئے گا۔ کرپٹ رپورٹ کی اطلاع نہ دینے پر دو سے پانچ سال کی پابندی عائد ہوگی۔

 تحقیقات کے دوران جھوٹ بولنے، ثبوت مٹانے یا تعاون سے انکار پر دو سے پانچ برس کی پابندی لگے گی۔

اینٹی کرپشن ایجوکیشن پروگرام میں عدم شرکت کرنے والا کھلاڑی جب تک ایسا نہ کر لے پابندی کا شکار رہے گا۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم پہلے ہی کرپشن کیخلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ماضی کی طرح اب بھی کھیل کی شہرت کو داغدار کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ ہو یا انٹرنیشنل تمام میں آئی سی سی اینٹی کرپشن قوانین کی مکمل پاسداری ہوگی، کھلاڑیوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈومیسٹک کرکٹ پانچ سال سے پانچ

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار