Express News:
2026-06-03@05:24:06 GMT

اس تاریخ کو کیا ہوا تھا؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT

یاالٰہی خیر ۔۔۔محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوتی جارہی ہے، لگتا ہے رات دن گردش میں ہیں، سات آسمان ۔۔ ہرچڑھتے دن کے ساتھ کوئی نہ کوئی دل دہلادینے والی خبر، لرزا دینے والی اطلاع اورکپکپادینے والا بیان؟

گردش میں ہے تقدیر بھنورمیں ہے سفینہ

بے کس پہ کرم کیجیے سرکار مدینہ

اور یہ خبر یااطلاع یا بیان کسی ایسے ویسے کا نہیں بلکہ صوبے اورملک کے سب سے مستند اورمعتبر ذریعے سے معاونین خصوصی برائے بیانات کاہوتا ہے جو جھوٹ کبھی نہیں بولتا، ہمیشہ سچ بولتا ہے اورسچ کے سوا کچھ نہیں بولتا ، گیتا سیتا اورکرینہ ،کترینہ پر ہاتھ رکھ کر ۔

وہ خبر یا اطلاع یا بیان تو پرانا ہوچکا ہے، جب لوگوں کی ٹانگیں لرزنا اورکانپنا شروع ہوگئی تھیں اوریہ لرزنا کانپنا شاید متعدی تھا کہ تازہ ترین خبر یااطلاع یا بیان میں’’ مینڈیٹ چور‘‘ پر بھی اثر انداز ہوئی ، پانچ اگست سے اس کی ٹانگیں بھی لرزنا شروع ہوچکی ہیں اوراس میں ہماری بے خبری کو بھی دخل ہے کہ پانچ اگست کو ایسا کیا ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں مینڈیٹ چورحکومت کی ٹانگوں پر لرزا طاری ہوا اور وہ لرزا تاحال جاری ہے ۔

 کیوں اندھیری ہے شب غم ، ہے بلاؤں کا نزول

آج ادھر کوہی رہے گا دیدہ اختر کھلا

 ہم تو یہاں آرام سے اپنے ’’خوشحال اور پرامن‘‘ صوبہ کے پی کے یعنی صوبہ’’ خیر پہ خیر‘‘ میں بیھٹے چین کی بنسری بجارہے تھے اور بجا رہے ہیں کیوںکہ ہمارے ہاں ہرطرف ’’خیر ہی خیر‘‘ ہے ۔لوگ شہنائیاں بجارہے ہیں،شیر اوربکری نے اپنا الگ الگ اسٹرا بھی پھینک دیا ہے اورایک ہی اسٹرا سے منرل واٹر پی رہے ہیں، ہرگھر کی دہلیز پر انصاف پہرہ دے رہا ہے اوراندر قانوں جھاڑو دینے میں مصروف ہے، جب کہ گلی گلی میں امن وامان بھنگڑا ڈالے ہوئے ہے ،کرپشن اور بیروزگاری کو صوبہ بدر کیاجاچکا ہے اورجرائم کانام ونشان نہیں رہا ہے،حکومت کی گاڑیاں وزیروں، مشیروں اور معاونوں کی سربراہی میں خیراتیں بانٹنے کے لیے فراٹے بھر کر دوڑ رہی ہیں لیکن کوئی خیرات لینے والا نہیں مل رہا ہے ۔

پورا صوبہ غربت کسیمپرسی اورتباہی بربادی کاشکارہے ، سارے شہر ڈوب چکے ہیں،کنارے کنارے گاڑیاں الٹی ہوئی پڑی ہیں، جن میں زخمی اورٹوٹے پھوٹے لوگ چیخ رہے ہیں، مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن کوئی مدد کو نہیں آرہا ہے کیوں کہ متعلقہ ادارے کرپشن اورلوٹ مار میں مصروف ہیں ۔

 خیریہ تو اب روز کامعمول ہوگیا ہے کیوں کہ ہمارے نہایت مستند اورمعتبر سرچشمہ نے نہایت ہی ماڈرن ذریعہ بیانات ایجاد کیاہوا ہے، اسے آپ جدید زمانے کاجام جہاں نما یاآئینہ سکندر بھی کہہ سکتے ہیں، یہ ایک چھوٹا سا جگنو برابر کیمرہ ہے جو ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے، جو پڑوسی صوبے کے اوپر مستقل محوپرواز ہے اور وہاں کے چپے چپے کی تصاویر بھیج رہا ہے جو ہمارے یہاں ایک پردہ اسکرین پر موصول ہوتی ہیں چنانچہ اتنا وہاں کی وزیراعلیٰ کو بھی اپنے صوبے اوراپنے آپ کے بارے میں علم نہیں جتنا، ہم کو یہاں بیٹھ کر ہے ۔

ہمیں اگر فکرہے تو پانچ اگست کے بارے میں ہے جو گزر چکا ہے کیوں کہ اس دن کے بارے میں پہلے بھی اطلاع ملی تھی کہ ’’چور حکومت‘‘ کے دن گنے جاچکے ہیں ، الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اورپانچ اگست کو ’’چورحکومت فنش‘‘۔۔۔ اوراب اس دن سے ہی ’’چورحکومت‘‘ کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ تجسس تو ہوگا کہ ہم خود بھی سرکاری اکیڈمیوں کے سند یافتہ اورتفتیشی اداروں کے تربیت یافتہ محقق ہیں کہ آخر پانچ اگست کو کیا ہواتھا اورکیا ہوچکا ہے ۔ پہلے ہمارا خیال تھا کہ شاید اس دن مرکزی حکومت پر کوئی ڈرون گرایا گیا ہو گا یا بانی صاحب نے اسے غصے سے گھور کر دیکھا ہوگا، ہم نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس دنایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا تو ہم نے شکر ادا کیا اوراطمینان کی سانس لی کہ

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

لیکن اب اسی معتبراور مستند ذریعے سے اطلاع یاخبر یا بیان نشر ہوا ہے کہ پانچ اگست کو ایسا کچھ ہوچکا ہے کہ ’’مینڈیٹ چوروں ‘‘کی ٹانگیں تب سے کانپنا شروع ہوچکی ہیں اوراگر ٹانگیں اسی طرح کانپتی رہیں تو نہ جانے کیا ہوجائے ۔بظاہر تو ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے کچھ اور امکانات کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔

ہم نے پڑوسی ملک کی دھارمک کہانیوں اور ڈراموں میں اکثر دیکھا ہے کہ ایسے جادوئی عمل کی ابتدا ٹانگوں سے ہوتی ہے ۔ کسی کردار کی پہلے ٹانگیں پتھر کی ہوجاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ پتھر ہونے کاسلسلہ اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے ۔ عام طورپر جب وہ گلے گلے تک پتھرا جاتا ہے تو کہانی میں ٹوسٹ آجاتا ہے اورکوئی رشی منی یا بانی اس عمل کو روک دیتا ہے، کچھ من چاہی شرائط کے ساتھ۔

یہی بات ہوسکتی ہے۔ اب صرف انتظار کرنا ہے کہ پانچ اگست کو کیا ہوا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پانچ اگست کو کے بارے میں کی ٹانگیں رہے ہیں رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی