Express News:
2026-07-24@02:09:01 GMT

اس تاریخ کو کیا ہوا تھا؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT

یاالٰہی خیر ۔۔۔محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوتی جارہی ہے، لگتا ہے رات دن گردش میں ہیں، سات آسمان ۔۔ ہرچڑھتے دن کے ساتھ کوئی نہ کوئی دل دہلادینے والی خبر، لرزا دینے والی اطلاع اورکپکپادینے والا بیان؟

گردش میں ہے تقدیر بھنورمیں ہے سفینہ

بے کس پہ کرم کیجیے سرکار مدینہ

اور یہ خبر یااطلاع یا بیان کسی ایسے ویسے کا نہیں بلکہ صوبے اورملک کے سب سے مستند اورمعتبر ذریعے سے معاونین خصوصی برائے بیانات کاہوتا ہے جو جھوٹ کبھی نہیں بولتا، ہمیشہ سچ بولتا ہے اورسچ کے سوا کچھ نہیں بولتا ، گیتا سیتا اورکرینہ ،کترینہ پر ہاتھ رکھ کر ۔

وہ خبر یا اطلاع یا بیان تو پرانا ہوچکا ہے، جب لوگوں کی ٹانگیں لرزنا اورکانپنا شروع ہوگئی تھیں اوریہ لرزنا کانپنا شاید متعدی تھا کہ تازہ ترین خبر یااطلاع یا بیان میں’’ مینڈیٹ چور‘‘ پر بھی اثر انداز ہوئی ، پانچ اگست سے اس کی ٹانگیں بھی لرزنا شروع ہوچکی ہیں اوراس میں ہماری بے خبری کو بھی دخل ہے کہ پانچ اگست کو ایسا کیا ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں مینڈیٹ چورحکومت کی ٹانگوں پر لرزا طاری ہوا اور وہ لرزا تاحال جاری ہے ۔

 کیوں اندھیری ہے شب غم ، ہے بلاؤں کا نزول

آج ادھر کوہی رہے گا دیدہ اختر کھلا

 ہم تو یہاں آرام سے اپنے ’’خوشحال اور پرامن‘‘ صوبہ کے پی کے یعنی صوبہ’’ خیر پہ خیر‘‘ میں بیھٹے چین کی بنسری بجارہے تھے اور بجا رہے ہیں کیوںکہ ہمارے ہاں ہرطرف ’’خیر ہی خیر‘‘ ہے ۔لوگ شہنائیاں بجارہے ہیں،شیر اوربکری نے اپنا الگ الگ اسٹرا بھی پھینک دیا ہے اورایک ہی اسٹرا سے منرل واٹر پی رہے ہیں، ہرگھر کی دہلیز پر انصاف پہرہ دے رہا ہے اوراندر قانوں جھاڑو دینے میں مصروف ہے، جب کہ گلی گلی میں امن وامان بھنگڑا ڈالے ہوئے ہے ،کرپشن اور بیروزگاری کو صوبہ بدر کیاجاچکا ہے اورجرائم کانام ونشان نہیں رہا ہے،حکومت کی گاڑیاں وزیروں، مشیروں اور معاونوں کی سربراہی میں خیراتیں بانٹنے کے لیے فراٹے بھر کر دوڑ رہی ہیں لیکن کوئی خیرات لینے والا نہیں مل رہا ہے ۔

پورا صوبہ غربت کسیمپرسی اورتباہی بربادی کاشکارہے ، سارے شہر ڈوب چکے ہیں،کنارے کنارے گاڑیاں الٹی ہوئی پڑی ہیں، جن میں زخمی اورٹوٹے پھوٹے لوگ چیخ رہے ہیں، مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن کوئی مدد کو نہیں آرہا ہے کیوں کہ متعلقہ ادارے کرپشن اورلوٹ مار میں مصروف ہیں ۔

 خیریہ تو اب روز کامعمول ہوگیا ہے کیوں کہ ہمارے نہایت مستند اورمعتبر سرچشمہ نے نہایت ہی ماڈرن ذریعہ بیانات ایجاد کیاہوا ہے، اسے آپ جدید زمانے کاجام جہاں نما یاآئینہ سکندر بھی کہہ سکتے ہیں، یہ ایک چھوٹا سا جگنو برابر کیمرہ ہے جو ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے، جو پڑوسی صوبے کے اوپر مستقل محوپرواز ہے اور وہاں کے چپے چپے کی تصاویر بھیج رہا ہے جو ہمارے یہاں ایک پردہ اسکرین پر موصول ہوتی ہیں چنانچہ اتنا وہاں کی وزیراعلیٰ کو بھی اپنے صوبے اوراپنے آپ کے بارے میں علم نہیں جتنا، ہم کو یہاں بیٹھ کر ہے ۔

ہمیں اگر فکرہے تو پانچ اگست کے بارے میں ہے جو گزر چکا ہے کیوں کہ اس دن کے بارے میں پہلے بھی اطلاع ملی تھی کہ ’’چور حکومت‘‘ کے دن گنے جاچکے ہیں ، الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اورپانچ اگست کو ’’چورحکومت فنش‘‘۔۔۔ اوراب اس دن سے ہی ’’چورحکومت‘‘ کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ تجسس تو ہوگا کہ ہم خود بھی سرکاری اکیڈمیوں کے سند یافتہ اورتفتیشی اداروں کے تربیت یافتہ محقق ہیں کہ آخر پانچ اگست کو کیا ہواتھا اورکیا ہوچکا ہے ۔ پہلے ہمارا خیال تھا کہ شاید اس دن مرکزی حکومت پر کوئی ڈرون گرایا گیا ہو گا یا بانی صاحب نے اسے غصے سے گھور کر دیکھا ہوگا، ہم نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس دنایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا تو ہم نے شکر ادا کیا اوراطمینان کی سانس لی کہ

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

لیکن اب اسی معتبراور مستند ذریعے سے اطلاع یاخبر یا بیان نشر ہوا ہے کہ پانچ اگست کو ایسا کچھ ہوچکا ہے کہ ’’مینڈیٹ چوروں ‘‘کی ٹانگیں تب سے کانپنا شروع ہوچکی ہیں اوراگر ٹانگیں اسی طرح کانپتی رہیں تو نہ جانے کیا ہوجائے ۔بظاہر تو ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے کچھ اور امکانات کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔

ہم نے پڑوسی ملک کی دھارمک کہانیوں اور ڈراموں میں اکثر دیکھا ہے کہ ایسے جادوئی عمل کی ابتدا ٹانگوں سے ہوتی ہے ۔ کسی کردار کی پہلے ٹانگیں پتھر کی ہوجاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ پتھر ہونے کاسلسلہ اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے ۔ عام طورپر جب وہ گلے گلے تک پتھرا جاتا ہے تو کہانی میں ٹوسٹ آجاتا ہے اورکوئی رشی منی یا بانی اس عمل کو روک دیتا ہے، کچھ من چاہی شرائط کے ساتھ۔

یہی بات ہوسکتی ہے۔ اب صرف انتظار کرنا ہے کہ پانچ اگست کو کیا ہوا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پانچ اگست کو کے بارے میں کی ٹانگیں رہے ہیں رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف