سیلاب متاثرین کی مد د جاری، حالت جنگ ہو یا امن، فوج عوام کے ساتھ ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال کے تناظر میں، پاک فوج، حکومت اور امدادی ادارے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم بریفنگ میں بتایا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں فوری اور مؤثر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سیلابی خطرات کی شدت
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس وقت ملک کے تین بڑے دریا شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی تک پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، اور 10 لاکھ کیوسک کا ریلا موجود ہے۔ قادر آباد کی طرف بھی پانی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث انخلا ضروری ہو گیا ہے۔
حکومتی اور ادارہ جاتی ردعمل
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیشگی اطلاع رسانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان تاثرین کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ بروقت انخلا اور ریسکیو ممکن بنایا جا سکے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے بتایاکہ مقبوضہ کشمیر میں 300 ملی میٹر اور سیالکوٹ میں 600 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے اثرات پنجاب کے شمالی علاقوں تک پہنچے۔
ہیڈ خانکی میں موجود 10 لاکھ کیوسک ریلے کی وجہ سے خانکی اور قادر آباد کے درمیان طغیانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ 2 لاکھ افراد کو دریائے ستلج کے اطراف سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
دریائے سندھ میں فی الوقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، لیکن صورتحال پر مسلسل نگرانی جاری ہے۔ 29 اگست سے 9 ستمبر کے درمیان مون سون کا آخری اسپیل متوقع ہے، جس کی پیشگی اطلاع متعلقہ اداروں کو دے دی گئی ہے۔
پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی ہدایت پر 30 فوجی یونٹس امدادی کاموں میں مصروف ہیں، جن میں 19 انفنٹری، 7 انجینئرنگ اور 4 میڈیکل یونٹس شامل ہیں۔ شدید موسم کے باوجود 3 بڑے پلوں کی مرمت مکمل کی گئی ہے (2 خیبرپختونخوا اور 1 گلگت بلتستان میں)۔ شاہراہِ قراقرم بحال کر دی گئی ہے۔ فوجی انجینئرز نے 104 سڑکیں سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر مکمل کلیئر کر دی ہیں۔ افسوس کے ساتھ بتایا گیا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ دفاعی ذمہ داریاں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی جاری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سیلابی حالات کے باوجود سرحدوں اور ورکنگ باؤنڈری پر مکمل نگرانی جاری ہے۔ کسی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں اور غیر ملکی عناصر کے خلاف آپریشنز میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ عوام کو اس نازک وقت میں کسی قسم کے خطرے سے بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز پوری طرح مستعد ہیں۔
عوام کے ساتھ فوج کا رشتہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے اختتامی پیغام میں کہا کہ حالتِ جنگ ہو یا امن، پاک فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ چاہے وہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوں، عوام اور فوج کا رشتہ ناقابلِ شکست ہے۔ کوئی بھی باطل قوت اس رشتے میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاک فوج کے ساتھ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔