چارٹر انسپیکشن کمیٹی؛ حاضر سروس وائس چانسلرز فارغ، ریٹائرڈ وائس چانسلرز کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ کی سرکاری و نجی جامعات کی گریڈنگ کرنے والے ادارے سی آئی ای سی (چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی) کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی اور حاضر سروس وائس چانسلرز کو فارغ کرنے کے بعد اب ریٹائرڈ وائس چانسلرز کی کیٹگری میں چار سابق شیوخ الجامعہ کی تقرری کردی گئی.
ایکسپریس نیوز کے مطابق ممتاز شہری کی کیٹگری میں دو مزید افراد کی تقرری کی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالقدیر راجپوت، سندھ زرعی یونیورسٹی اے کیو مغل اور شاہ عبدالطیف یونیورسٹی نیلوفر شیخ اس کمیٹی کے رکن ہونگے جبکہ ممتاز شہری کے طور پر نادرہ پنجوانی اور سہیل بشیر بھی کمیٹی میں شامل کردیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جامعہ کراچی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے حاضر سروس وائس چانسلرز اس کمیٹی کے اراکین ہوا کرتے تھے جو کراچی سمیت پورے سندھ کی نجی و سرکاری جامعات کے انسپیکشن کے ذمے دار تھے تاہم اب چارٹر کمیٹی کی ترمیمی گائیڈ لائنز کے مطابق سابق وائس چانسلرز انسپیکشن اور ایویلیوایشن کے ساتھ ساتھ ان جامعات کی رینکنگ کریں گے۔
کمیٹی کی سربراہی چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے چیئرمین کریں گے جو اس وقت پروفیسر سروش لودھی ہیں۔ ان چاروں ریٹائرڈ وائس چانسلرز کی کمیٹی میں رکنیت کی مدت سرکاری و نجی جامعات کے انسپیکشن کی ایک سائیکل تک ہوگی جو ممکنہ طور پر ڈیڑھ سے دو برس تک ہوسکتی ہے۔
مزید براں ایچ ای سی، پی ای سی، پی ایم ڈی سی، پی کیٹ پی کے ایک ایک نمائندہ مستقل کمیٹی میں شامل ہوگا۔ اسی دو طرح سیکریٹری سندھ ایچ ای سی اور ڈائریکٹر جنرل سی آئی سی سی بھی اس مستقل کمیٹی کا حصہ ہونگے۔
سی ای آئی سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی نے "ایکسپریس" کو بتایا کہ
مذکورہ تقرریوں کے بعد اب جلد چارٹر کمیٹی کا اجلاس بلایا جارہا ہے جبکہ سرکاری و نجی جامعات کے انسپیکشن سے قبل وائس چانسلرز، رجسٹرار، ڈائریکٹر فنانس اور ڈائریکٹر کیو ای سی کی ایک تربیتی ورکشاپ بھی کرائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ میں 69 سرکاری و نجی فعال جامعات ہیں جن میں سے 30 سرکاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائس چانسلرز سرکاری و نجی
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،