پاکستان نے بھارتی طیارے مارگرانے کیساتھ سفارتی میدان بھی مارلیا، معروف ماہر عالمی امور
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
واشنگٹن:
معروف فارن پالیسی ایکسپرٹ ایلدار میمدوف نے پاک-امریکا تعلقات کے حوالے سے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے طیارے مار گرائے اور سفارتی میدان میں برتری حاصل کرتے ہوئے امریکا میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی اور صدر ٹرمپ کی قربت حاصل کر لی ہے۔
ایلدار میمدوف نے لکھا کہ ٹرمپ نے کانگریس میں خطاب کے دوران انسداد دہشت گردی پر پاکستان کی تعریف کی اور واشنگٹن میں پاکستان کے نئے حامی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے اپنے آرٹیکل میں بتایا کہ بھارت نے مئی میں کشمیر حملے کے بعد پاکستان پر حملہ کیا، مگر پاکستان نے بھارتی طیارے مار گرائے، چار روزہ جنگ میں ٹرمپ کی مداخلت سے کشیدگی ختم ہوئی اور پاکستان نے جنگ بڑھانے سے گریز کیا۔
ایلدار میمدوف نے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کو سراہا اور نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کیا جبکہ بھارت نے ٹرمپ کے کردار کی تردید کی مگر پاکستان نے سفارتی میدان میں سبقت حاصل کرلی۔
پاکستان کے کردار پر انہوں نے مزید لکھا کہ مودی کی واشنگٹن آمد نہ ہوسکی جبکہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مدعو کیا۔
ماہر عالمی امور نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کے مستقل مزاج اور متوازن رویے نے ٹرمپ کو متاثر کیا، ٹرمپ اور فیلڈ مارشل منیر کے تعلقات “برو مینس” کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ بڑے معاشی معاہدے کیے جبکہ بھارت پر اضافی ٹیرف لگا کر ٹرمپ نے نئی دہلی کو بیجنگ اور ماسکو کی طرف دھکیل دیا ہے اور مودی 7 سال بعد پہلی بار بیجنگ کے دورے پر جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ایلدار میمدوف نے کہا کہ امریکا کے جھکاؤ کے باوجود سوال باقی ہے کہ کیا واشنگٹن کی پالیسی واقعی بدل گئی یا یہ محض وقتی اشارے ہیں یا نیشنل انٹرسٹ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلدار میمدوف نے پاکستان نے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔