بجلی 1 روپے 69 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
جولائی کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 1 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ، جس سے ملک بھر کے صارفین کو تقریباً 23 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں نیپرا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں جمعرات کو عوامی سماعت ہوئی، جس کی صدارت نیپرا کے ممبر سندھ، رفیق شیخ نے کی۔ سماعت کے دوران سی پی پی اے (سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی) نے جولائی کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نرخ کم کرنے کی درخواست جمع کروائی اور بتایا کہ اس کمی کا فائدہ ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین کو منتقل ہوگا۔
حادثات پر سخت برہمی
سماعت کے دوران نیپرا کے ممبر رفیق شیخ نے جولائی میں بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک ماہ میں کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 6 اموات صرف اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے دائرہ کار میں ہوئیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کہاں ہیں حفاظتی اقدامات؟ آئیسکو کے سی ای او کہاں ہیں؟” اور خبردار کیا کہ نیپرا ان غفلت برتنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کر سکتی ہے، تاہم اکثر اوقات عدالتوں سے ان پر حکمِ امتناع (سٹے آرڈر) لے لیا جاتا ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست اور اطلاق
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے نے جولائی کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں فی یونٹ 1.
تاہم یہ ریلیف صرف مخصوص صارفین کو ملے گا۔ لائف لائن صارفین، پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے صارفین، پری پیڈ میٹرز والے صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اس کمی کے اطلاق سے مستثنیٰ ہوں گے۔
نیپرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء سننے کے بعد بتایا کہ ادارہ موصولہ ڈیٹا کا مزید تجزیہ کرے گا اور حتمی فیصلہ جلد جاری کیا جائے گا۔ Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔