بھارت میں جعلی شادیوں کا ڈرامہ رچا کر لوٹ مار کرنے والا گینگ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
بھارت کی ریاست بہار کے ضلع چمپارن میں پولیس نے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو “جعلی شادیاں” رچا کر لوگوں کو لوٹنے میں ملوث تھا۔ گینگ میں شامل خواتین شادی کا جھانسہ دے کر قیمتی سامان اور نقدی لے کر فرار ہو جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق، یہ گروہ خاص طور پر غریب اور سادہ لوح افراد کو نشانہ بناتا تھا۔ خواتین — جن میں بعض پہلے سے شادی شدہ بھی تھیں — خود کو کنواری ظاہر کر کے شادی کے لیے تیار ہوتیں، اور شادی کے بعد موقع ملتے ہی گھر سے سونا، نقد رقم، قیمتی اشیاء اور دیگر سامان لے کر فرار ہو جاتیں۔
خفیہ اطلاع پر پولیس نے چمپارن کے علاقے مینا ٹنڈ میں کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے مبینہ سرغنہ علی احمد سمیت 9 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 4 خواتین بھی شامل ہیں۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے ایک کار، دو موٹرسائیکلیں اور 9 موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گینگ کافی عرصے سے بگاہہ اور بیتیہ کے علاقوں میں سرگرم تھا، اور کئی افراد کو اسی طریقے سے نشانہ بنا چکا ہے۔
پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ دیگر متاثرین اور ممکنہ ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔