لاکھوں مالیت کی 1600 فٹ سے زائد ریلوے لائنیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
سکھر:
ریلویز پولیس سکھر نے انٹیلیجنس بنیادوں پر ریلوے پھاٹک نوابشاہ میں کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں مالیت کی ریلوے لائنیں چوری کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ریلویز پولیس کے مطابق کنٹینر کے اندر سے 140 چوری شدہ ریلوے لائنیں برآمد کر لی گئیں، ملزمان نے 1632 فٹ ریلوے لائنوں کو کلوز سیکشن راجہ لائن میر پور خاص سے گیس کٹر کی مدد سے کاٹا۔
تھانہ ریلویز پولیس نوابشاہ نے 2 ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا جبکہ دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
ریلوے لائنیں جام صاحب نوابشاہ سے لاہور کے لیے کنٹینر میں لوڈ کی گئی تھیں۔
ریلویز پولیس سکھر نے اس سے پہلے چند ماہ قبل 1000 فٹ چوری شدہ ریلوے لائنیں بھی برآمد کی تھیں، چوری میں ملوث 2 گروہ کے 8 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ منیر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ آئی جی ریلویز پولیس کی سربراہی میں ریلوے مٹیریل چوروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلوے لائنیں ریلویز پولیس
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔