اسلام آباد:

چین کی جانب سے تقریباً ایک دہائی تک وعدے کے باوجود مالی معاونت نہ ملنے پر پاکستان نے 7 ارب ڈالر مالیت کے مین لائن1 (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے مکمل فنڈنگ کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حالیہ ملاقات میں ADB کے صدر مساتوکانڈا سے  منصوبے کیلیے ADB، ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مددسے فنڈنگ کی درخواست کی۔

ADB  اور AIIB نے کراچی تا روہڑی سیکشن کیلیے تقریباً 60 فیصد فنڈنگ فراہم کرنے پر آمادگی ظاہرکی ہے،جس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 2 ارب ڈالر لگایاگیا ہے۔

اس کے علاوہ منصوبے کے دیگر سیکشنزکی مرحلہ وار فنڈنگ کے امکان پر بھی غور جاری ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ریکوڈک منصوبے سے تانبے اور سونے کی نقل و حمل کیلیے کراچی روہڑی ریلوے سیکشن کی جلد تکمیل انتہائی ضروری ہے، ریکوڈک سے پیداوار 2028 میں متوقع ہے۔

ADB  نے نومبر تک 10 ملین ڈالرزکا پراجیکٹ ریڈی نیس فیسلٹی فراہم کرنے کاوعدہ کیا ہے،جو چینی فزیبلٹی اسٹڈی، تفصیلی ڈیزائن اور روہڑی ملتان سیکشن کا جائزہ لے گی۔

حکام کے مطابق وزیراعظم منصوبے کا سنگ بنیاد جون 2026 میں رکھناچاہتے تھے لیکن ADB اور وزارت ریلوے نے دسمبر 2026 کا ممکنہ وقت تجویز کیا ہے۔

ایم ایلIII منصوبے کیلیے ابھی تک کوئی فنانسنگ کا ذریعہ دستیاب نہیں، جو بنیادی طور پر ریکوڈک سے گوادر اورکراچی کیلیے مال برداری کیلیے مخصوص ہوگا، مگر تجارتی لحاظ سے غیر منافع بخش ہونے کے باعث اس پر پیشرفت سست روی کا شکار ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ADB سے پینڈا بانڈزکے اجراکیلیے گارنٹی کی حد بڑھانے کی درخواست بھی کی ہے، جس کے تحت رواں سال 750 ملین ڈالرز کے بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ