کراچی: پولیس نے کمسن بچے کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
نارتھ کراچی میں پولیس نے کمسن بچے کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی۔ پولیس کے تعاقب پر کار سوار ملزمان کچھ فاصلے پر جا کر کار چھوڑ کر فرار ہوگئے جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او سرسید اسلم خان نے بتایا کہ نارتھ کراچی سیکٹر الیون سی ون میں سوزوکی آلٹو کار میں سوار ملزمان نے گلی میں کھیلتے ہوئے 4 سالہ موسیٰ کو اغوا کر رہے تھے کہ اس دوران وہاں موجود دیگر بچوں نے شور مچایا جس پر بچے کا ماموں بھی باہر نکل آیا۔
لوگوں کو دیکھ کر کار سوار ملزمان موقع سے فرار ہوگئے جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے سرسید پولیس اور مدد گار 15 پولیس نے ملزمان کا تعاقب کیا اس دوران ملزمان نارتھ کراچی کلیانہ ٹاؤن کے قریب کار چھوڑ کر فرار ہوگئے جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
انہوں نے تبایا کہ کار پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی جبکہ پولیس انجن اور چسز نمبر کی مدد سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔ تاہم، پولیس نے کار سے اہم شواہد حاصل کیے ہیں جن کی مدد سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس نے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز