کراچی؛ بچے دو سال بعد والدہ کے حوالے، ماں خوشی سے نہال
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے 2 کمسن بچوں کی حوالگی سے متعلق بچوں کو والدہ کے حوالے کر دیا۔
ہائیکورٹ میں 2 کمسن بچوں کی حوالگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے بچوں کو والد کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا۔
عدالت نے بچوں کو والدہ کے حوالے کر دیا، ماں 2 سال بعد بچوں کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئی۔
درخواست گزار کے وکیل منہاز جان ایڈووکیٹ کے مطابق عدالتی حکم پر بچوں کو والدہ سے ملوایا گیا ہے، میاں بیوی دونوں ابھی تک نکاح میں ہیں۔
درخواست گزار مسمات نگینہ نے محمد شاہد سے 2017 میں شادی کی تھی۔
سال 2023 میں محمد شاہد نے مسمات نگینہ کو گھر سے نکال دیا تھا، 2023 سے محمد شاہد ڈھائی سالہ عبد الصمد اور 4 سالہ بیٹی جویریہ کو لے کر غائب ہوگیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔