مئیر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کراچی والوں کو آج حقائق سے آگاہ کرنے آیا ہوں، سیاسی حریفوں نے حب کینال اور شاہراہ بھٹو کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ چلایا۔

مئیر کراچی مرتضی وہاب نے ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں شکر ادا کرتا ہوں کہ جلال پور پیر والا موٹر وے سندھ کا حصہ نہیں ہے، جلال پور والا موٹر وے سندھ میں ہوتا تو اپوزیشن کے اراکین پہنچ چکے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیاسی مخالفین اس پر بھی درجنوں پریس کانفرنس کر چکے ہوتے،  ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو قدرتی طور پر نقصان ہوتا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس طرح کی آفت جب آتی ہے تو بہت سارے اسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے، حلیم عادل شیخ پہنچے اور کہا کہ حب کنال بہہ گیا ہے، حب کنال کے 20 میٹر حصے کو نقصان پہنچا، حب کنال کے 20 میٹر حصے کو فوری طور پر  48 گھنٹوں کے دوران ہی بنوایا گیا۔

میئر کراچی نے کہا کہ خدارا سیاسی جماعتیں سیاست کے بجائے لوگوں کو گمراہ نہ کریں، ہمارے شہر میں تاثر دیا جاتا ہے کہ کام نہیں ہوتا، اس  بار ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کام کرینگے بھی،  دکھائیں گے بھی، شاہراہِ بھٹو پر جب کام شروع ہوا تو کہا گیا کہ نہیں بن سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جب شاہراہِ بھٹو بن گیا تو کہا گیا کہ صورت حال بہتر نہیں، سفر مت کریں، شاہراہِ بھٹو پر دن و رات گاڑیاں چل رہی ہیں، جس کا افتتاح بلاول بھٹو زرداری نے کیا، شاہراہِ بھٹو پر جہاں کام چل رہا ہے اس حوالے سے پروپیگنڈا کیا گیا، جب ہر بندے نے انجنئیر ہی بننا ہے تو جامعات کو بند کردیتے ہیں۔

https://x.

com/PPP_Org/status/1967523261568471045

ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو کے جس حصے میں بھی کام ہوگا، پرانے پیسوں پر ہی ٹھیکیدار کام کریگا، جماعت اسلامی کو 27 ارب روپے دیے گئے جس کا اعتراف جماعت اسلامی نے کیا، تمام تر ٹیکسز کے پیسے ٹاؤنز چیئرمینوں کو ملتے ہیں پھر بھی کام نہیں کرتے ہیں، اب میں مزید خاموش نہیں رے سکتا، حقائق سامنے لاؤں گا۔

میئر کراچی نے کہا کہ  عدالت میں جماعت اسلامی نے کیس کیا کہ کے ایم سی نے کراچی کے پارکوں کو کمرشلائز کیا، عدالت میں باوضو ہوکر جماعت اسلامی کے سیف الدین نے  ٹاؤنز چیئرمینوں کے ہمراہ جھوٹا حلف اٹھایا، باغ ابن قاسم کی روشنیاں دوبارہ بحال کرنے کے لئے کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نعمت اللہ خان صاحب نے کراچی کی سڑکوں کو کمرشلائز کیا، کونسل کی منظوری سے پہلے جو کمیٹی بنائی تھی اس میں جماعت اسلامی کے ذمہ دار موجود تھے، ہماری عدالتوں کے 3 کیسز کا ریفرنس موجود تھا کہ چند پارکس میں کمرشل سرگرمیاں ٹھیک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں تو یہ بات ہے کہ انٹری فیس بھی لی جاسکتی ہے،  فیصلے میں کہا گیا کہ پارکس کے ڈی اے کو دے دیے جائیں، ہمارے وکیل کو موقع دیا جاتا تو وکیل عدالت کو بتاتا کہ ماضی میں فیصلے موجود ہیں، مئیر قوانین اور کونسل کے ختیارات کے تحت فیصلہ کرتا ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ جماعتی بھائی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں، مئیر اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریگا،  ہم کام کرینگے تو اس شہر کے مسائل حل ہونگے۔

ان کہنا تھا کہ مجھے مئیر مخاطب نہیں بلکہ مرتضی مخاطب کہا جائے جماعت اسلامی خوش ہوجائیگی، اگر اختیارات کا رونا ہے تو گھر چلے جاؤ، ہم کام کرکے دیکھائیں گے کہ کام کیسے ہوتا ہے، حافظ نعیم الرحمن لاہور چلے گئے ہیں، ان کو حقائق نہیں بتائے جارہے،  ماڈل کالونی ٹاؤن کو ڈھائی ارب روپے ملے ہیں ایک سڑک نہیں بنی ہے۔ 

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حافظ نعیم میرے بڑے ہیں میں آجاتا ہو اصل حقائق سے آگاہ کرتا ہو، ان کا منصوبہ تھا کہ رقم سنبھال کر رکھیں گے،  یہ رقم الیکشن سے چند ماہ قبل خرچ کی جانے تھی۔

مئیر کراچی نے کہا کہ سعدی ٹاؤن پانی کی گزرگاہ پر بنائی گیا گیا ہے، سعدی ٹاؤن کا حل ایک بڑا نالہ ہے جس کےلئے فنڈ مختص ہے، اگر یہ نالہ بن جاتا ہے تو مستقبل میں سعدی ٹاؤن میں بہتری آسکتی ہے، میرے پاس 28 ارب روپے ہیں، شہر قائد پر لگاؤں گا۔  

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم وفاق سے 20 ارب روپے لیکر آرہی ہے، جماعت اسلامی کو بھی بڑا پیسہ ملتا ہے، تمام جماعتوں سے کہتا ہوں کہ آئیں مل کر شہر کی ترقی پر کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی جو ٹیکس لے رہی ہے وہ قانون کے مطابق ہے، ایم کیو ایم کے مئیر کراچی کے دور میں دکانوں پر ٹیکس 5ہزار روپے تھا، ہم نے اس ٹیکس کو کم کر کے پہلے 400 اور اب 750 روپے کر دیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو