روس کا پہلا بحری ڈرون حملہ، یوکرین کا سب سے بڑا بیڑا غرق، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
روس نے یوکرین کے سب سے بڑے بحری جہاز سمفروپول کو سمندری ڈرون حملے میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ واقعہ دریائے ڈینیوب کے ڈیلٹا میں پیش آیا جو یوکرین کے علاقے اودیسا میں واقع ہے۔
سمندری ڈرون کا پہلا کامیاب حملہروسی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی یوکرینی بحری جہاز کو سمندری ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
Video: Ukraine’s “Largest” Naval Ship Sunk In Russia’s First Sea Drone Attack https://t.
— Bharat Journal (@BharatjournalX) August 29, 2025
جہاز کو ’لاگونا کلاس‘ میں شمار کیا جاتا ہے جو ریڈیو، الیکٹرانک، ریڈار اور آپٹیکل جاسوسی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
ہلاکتیں اور زخمییوکرینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرینی بحریہ کے ترجمان کے مطابق، زیادہ تر عملہ محفوظ ہے جبکہ چند لاپتا ملاحوں کی تلاش جاری ہے۔
جہاز کی تفصیلاتسمفروپول 2019 میں لانچ کیا گیا اور 2021 میں باضابطہ طور پر یوکرینی بحریہ میں شامل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں مقبول روسی کارٹون ’ماشا اینڈ دی بیئر‘ یوکرین کی برہمی کا باعث کیوں بنا؟
اطلاعات کے مطابق، یہ 2014 کے بعد یوکرین کی جانب سے بنایا گیا سب سے بڑا بحری جہاز تھا۔
روس کی ڈرون تیاری میں تیزیرپورٹس کے مطابق روس نے حالیہ مہینوں میں سمندری ڈرون اور دیگر بغیر پائلٹ کے نظاموں کی پیداوار تیز کر دی ہے جو یوکرین جنگ میں بڑھتی ہوئی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
کیف پر میزائل حملہاسی دوران یوکرینی سیاست دان ایگور زنکیوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے جمعرات کی شب کیف میں ڈرون تیار کرنے کی ایک بڑی فیکٹری پر 2 میزائل حملے کیے۔
ان کے مطابق یہ سہولت ترک ساختہ بایراکتار ڈرونز کی تیاری کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحری جہاز ڈورن حملہ روس نیول شپ یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بحری جہاز ڈورن حملہ نیول شپ یوکرین بحری جہاز کے مطابق
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔