پشاور:

 کوہاٹ امن معاہدہ ضلع کرم کے عوام کیلئے امن، خوشحالی، ترقی اور پائیدار استحکام کا ضامن بن گیا، معاہدے نے تنازعات سے گھِرے کرم کو دیرپا امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کردیا۔

نومبر 2024ء میں پارہ چنار جانے والے 200 سے زائد گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں 49 شہری اور تاجر جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ بگن بازار پر بھی حملہ کر کے تباہی مچائی گئی۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد حکومت، سیکیورٹی اداروں اور علاقائی عمائدین نے فوری طور پر امن کیلئے جرگوں اور مذاکرات کا آغاز کیا، جس کا نتیجہ کوہاٹ امن معاہدہ کی شکل میں سامنے آیا معاہدے پر عملدرآمد کے بعد نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

عوام اور عمائدین کے تعاون سے 547 بڑے ہتھیار رضا کارانہ طور پر واپس لیے گئے۔ٹل پارہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کیلئے 120 خصوصی پوسٹیں قائم کی گئیں۔ ٹل پارہ چنار روڈ پر آزادانہ نقل و حرکت اور تجارت کے فروغ کیلئے خصوصی سیکیورٹی فورس تعینات کی گئی۔

کرم پولیس اور فورسز کو جدید تربیت فراہم کی گئی نوجوانوں کیلئے سپورٹس گراؤنڈ تعمیر کیے گئے۔ متعدد علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس اور سولرائزیشن منصوبے مکمل کیے گئے۔ بگن بازار میں 102 نئی دکانیں تعمیر کرکے دکانداروں کے حوالے کی گئیں۔

11 اگست 2025 کو مشترکہ جرگے میں لوئر کرم کے عمائدین نے پارہ چنار کے مشران کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔  جرگے میں امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مقامی مشر ملک سلیم نے کہا میں ضمانت دیتا ہوں کہ کرم میں دیرپا امن قائم رہے گا، امن میں زندگی، روشنی اور تعلیم ہے۔

سابق سینیٹر سجاد میاں نے کہا"یہاں بہترین امن قائم ہوا ہے، ہمیں ہر معاملے پر حکومت کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔

مقامی عمائدین اور عوام نے واضح کیا کہ شرپسند عناصر کے فتنہ انگیز عزائم کو وہ کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ضلع کرم میں امن کی بحالی سے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، اور وہ دن دور نہیں جب کرم تجارت، سیاحت اور برداشت کا عظیم مرکز بنے گا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پارہ چنار

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا