اسلام آباد:

این ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہی کی رپورٹ جاری کردی۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران سیلاب کے باعث 16 افراد جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہوئے۔ دو روز کے دوران 13 اموات پنجاب میں رپورٹ ہوئیں جب کہ  خیبرپختونخوا، سندھ اور کشمیر میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران طوفانی بارشوں اورسیلاب کے باعث 831 افراد جاں بحق 1121زخمی ہوئے، بارشوں اور سیلاب کے باعث پنجاب میں 191، خیبر پختونخوا میں 480 افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں 58، بلوچستان میں 24 اور گلگت بلتستان میں 41 افراد جاں بحق ہوئے، آزاد کشمیر میں 29، اسلام آباد میں 8 افراد سیلابی پانی کی نذر ہوگئے۔

بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد میں 219 بچے، 128 خواتین اور 484 مرد شامل ہیں۔ سیلاب کے باعث 9 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا، 6 ہزار سے زائد جانور برساتی پانی کی نذر ہوئے۔

سیلاب سے 238 پل اور 661 کلومیٹر کی شاہراہیں پانی میں بہہ گئیں، سیلاب کے باعث 35ہزار افراد کیمپوں میں موجود ہیں، خیبر پختونخوا میں 26ہزار، پنجاب میں 6ہزار، گلگت بلتستان میں 3ہزار افراد کیمپوں میں موجود ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں 1880ریسکیو آپریشن کیے گئے،  امدادی ٹیموں نے ریسکیو آپریشنز میں 5لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو، کارروائیوں میں پنجاب میں 4لاکھ 85ہزار، خیبر پختونخوا میں 14ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان بارشوں اور سیلاب افراد جاں بحق سیلاب کے باعث کے دوران

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق