برطانیہ میں پناہ گزین پالیسی سخت، خاندان بلانے کی درخواستوں پر عارضی پابندی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
لندن: برطانیہ نے پناہ گزینوں کے خاندان بلانے کی نئی درخواستیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔
وزیرداخلہ یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور فی الحال کوئی نئی درخواست جمع نہیں ہوسکے گی۔
وزیرداخلہ نے بتایا کہ اب پناہ گزینوں پر وہی شرائط لاگو ہوں گی جو دیگر تارکین وطن کے لیے ہیں۔ ان شرائط میں کم از کم 29 ہزار پاؤنڈ سالانہ آمدنی، مناسب رہائش کا انتظام اور اہل خانہ کے لیے بنیادی انگریزی زبان کا علم شامل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے اور مہنگے پناہ گزین ہوٹلوں کو بھی جلد بند کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔
دوسری جانب برطانیہ کی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے اس فیصلے کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ سرحدی سکیورٹی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے صرف قوانین میں معمولی تبدیلی کافی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پناہ گزینوں
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔