وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر سخت تنقید کی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتویٰ دینے کے بعد مولانا نے ڈیزل کے پرمٹ حاصل کیے تھے۔ انہوں نے مال لے کر 26ویں ترمیم کے لیے ووٹ دیا۔

Big breaking ????????
مولانا فضل الرحمان نے 26 ویں ترمیم پر وہی کا کیا کہ ” مینو نوٹ وکھا، میرا موڈ بنے” علی امین گنڈا پور کا مولانا فضل الرحمان پر بڑا الزام مولانا نے 26 ویں ترمیم میں پیسے لے کر حکومتی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، علی امین گنڈا پور pic.

twitter.com/GiTESXaATk

— Muhammad Aalijah Khan (@MuhammadAalija1) September 2, 2025

یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان اپنی جماعت میں تبدیلی لے کر آئیں: گنڈاپور کو ہٹانے کی تجویز پر صوبائی حکومت سیخ پا

’ہم مولانا فضل الرحمان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ میں نے اپنی جماعت کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مولانا ہمارے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔‘

انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے ہیں، لیکن پہلی بار عمران خان کے دور میں ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آیا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ جب عمران خان نے مسلمانوں اور اسلام کا حوالہ دیا تو مولانا فضل الرحمان کو مسترد کردیا گیا۔ وہ بلوچستان جا کر کامیاب ہوئے اور ان کی کامیابی فارم 47 کے ذریعے سامنے لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:

واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور اس سے قبل بھی کئی بار مولانا فضل الرحمان پر تنقید کر چکے ہیں۔ ماضی میں ایک دوسرے کے سخت مخالف رہنے والی جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے دوران تعلقات کی بحالی کے لیے کئی مذاکرات کے دور ہوئے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ہم تلخیاں ختم کرنا چاہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26ویں آئینی ترمیم wenews پی ٹی آئی تنقید جے یو آئی علی امین گنڈاپور مولانا فضل الرحمان وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 26ویں ا ئینی ترمیم پی ٹی ا ئی جے یو ا ئی علی امین گنڈاپور مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان علی امین گنڈاپور کے لیے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن