عمر 56 مگر لگتی 36 کی ہیں؛ ہالی ووڈ اسٹار جینیفر اینسٹن نے راز بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ہالی ووڈ کی ہمیشہ فِٹ اور اسٹائلش اسٹار جینیفر اینسٹن نے بالآخر اپنی جوانی کا راز کھول ہی دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 56 برس کی عمر میں بھی چمکتی دمکتی اینسٹن کو دیکھ کر مداح اکثر یہی سوچتے ہیں کہ آخر یہ جادو کیسے ہے؟
اپنے نئے ڈرامہ سیریل The Morning Show کے سیزن 4 کی ریلیز سے پہلے ایک انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ بڑھاپے کو شکست دینے کی کنجی صرف ایک ہے کہ خود سے محبت، مثبت سوچ اور کبھی ہمت نہ ہارنا۔
جینیفر نے مذاق میں کہا کہ وہ خود کو صرف قسمت پر نہیں چھوڑ دیتیں، بلکہ جم میں پسینہ بہاتی ہیں، روزانہ ورزش کرتی ہیں، اور فیشلز و اسکن ٹریٹمنٹ سے بھی گریز نہیں کرتیں۔
انھوں نے ہنستے ہوئے مزید کہا کہ میں بس ایسے ہی نہیں بیٹھ جاتی کہ سفید بال آ کر مجھے شکست دیں۔ جوان رہنے کا اصل راز ذہنیت ہے۔ اگر آپ کا رویہ مثبت ہو تو بڑھاپا بھی نیا فیشن لگنے لگتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکارہ اپنے شو کے نئے سیزن کو زچگی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ
ہر سال کہتی ہوں اب بس، لیکن پھر بھول جاتی ہوں اور شو میں واپسی کر لیتی ہوں۔
واضح رہے کہ جینیفر اینسٹن نے 2015 میں مانا تھا کہ وہ بوٹوکس آزما چکی ہیں اور اپریل 2025 میں بتایا تھا کہ روزانہ کی ورزش ان کے دن کا لازمی حصہ ہے۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ اینسٹن واقعی وقت کو پیچھے چھوڑ دینے والی "جادوگرنی" لگتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ