اقوام متحدہ کا زلزلے کے پیش نظر پاکستان سے افغانوں کی بے دخلی روکنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان میں حالیہ زلزلوں نے تباہی مچا دی، ہلاکتوں کی تعداد 1457 تک جا پہنچی جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ طالبان انتظامیہ کے مطابق 6700 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور اب بھی درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے بدھ کے روز کمانڈوز کو فضائی راستے سے متاثرہ علاقوں میں اتارا گیا تاکہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالا جا سکے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق یہ وقت کے خلاف دوڑ ہے اور کئی ایسے مقامات ہیں جہاں ہیلی کاپٹر اتر نہیں سکتے تھے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ متاثرین کے لیے غذائی امداد جلد ختم ہو سکتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق ان کے پاس صرف چار ہفتوں کے لیے خوراک اور فنڈنگ موجود ہے، جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ افغان مہاجرین کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی جائے، کیونکہ ہزاروں خاندان سرحد پار کرنے کے بعد اب انہی علاقوں میں پھنس گئے ہیں جہاں زلزلے نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔
ادھر بارڈر حکام کے مطابق چمن اور طورخم سے روزانہ ہزاروں افراد افغانستان واپس جا رہے ہیں۔ صرف منگل کے روز 6 ہزار 300 پی او آر کارڈ ہولڈرز طورخم کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے۔
کنڑ، ننگرہار اور لغمان کے دیہات میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا جہاں کئی گھرانے مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ زندہ بچ جانے والے ملبے میں اپنے پیاروں کی تلاش کرتے رہے جبکہ مسلسل جھٹکوں اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش رہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کا محلِ وقوع ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ہے جہاں بھارتی اور یوریشیائی پلیٹس آپس میں ٹکراتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ بار بار تباہ کن زلزلوں کی زد میں آتا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔