چینی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں تمام سہولیات دستیاب ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا پاک چین بزنس کانفرنس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے دوسری پاک-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مشترکہ وینچرز کے مواقع میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ انہیں تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کریں گے اور چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی سے سستی لیبر اور دیگر سہولیات میسر ہوں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور سرمایہ کاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ ذاتی طور پر دستیاب رہیں گے۔
شہباز شریف نے پاک-چین تعلقات کو ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرا، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دوستی باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہے۔
انہوں نے سی پیک کے ذریعے پاکستان کی توانائی، زراعت اور صنعت میں ترقی کو اجاگر کیا اور بتایا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پا چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین کے ساتھ مزید تعاون چاہتا ہے، خاص طور پر آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور دیگر شعبوں میں۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ پاکستان میں ان کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اور مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔
شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے، جیسے چین ہمارا دوسرا گھر ہے۔ آئیں اور مشترکہ منصوبے شروع کریں تاکہ پاک-چین تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سرمایہ کاری سی پیک وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری سی پیک وزیراعظم شہباز شریف سرمایہ کاروں سرمایہ کاری چینی سرمایہ پاکستان میں شہباز شریف کہ پاکستان پاک چین سی پیک کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔