چینی برآمد کی اجازت سے عوام پر بوجھ ڈالا گیا، حکومت مل مالکان کے سامنے بے بس ہے: شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو چینی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت چینی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا اور مل مالکان کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب چینی سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین کو تبدیل کرکے نائب وزیرِ اعظم کو چیئرمین بنایا گیا تو اسی دن 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق کابینہ نے بھی اسی روز اس فیصلے کی منظوری دی، جس کے بعد ملک میں چینی کی قیمت بڑھنا شروع ہوگئی۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں فہرست پیش، کس سیاسی خاندان نے کتنی چینی برآمد کی؟
انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کے وقت یہ شرط رکھی گئی تھی کہ چینی کی فی کلو قیمت 140 روپے سے زیادہ نہیں بڑھے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ چینی 230 روپے فی کلو تک فروخت ہوئی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے دور میں بھی چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا لیکن موجودہ حکومت کے دور میں عوام کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ چینی برآمد کرنے کے فیصلے کو زرمبادلہ کمانے کا جواز دیا گیا، مگر اس کے نتیجے میں عوام کی جیب سے روزانہ ایک ارب روپے نکل کر مل مالکان کی جیب میں جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا میں نئی صف بندی کی ضرورت، چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کو روکا نہیں جاسکتا، چینی صدر شی جن پنگ
ان کے مطابق اس فیصلے سے ملز مالکان کو مجموعی طور پر 400 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت واقعی عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بیٹھی ہے یا مل مالکان کے مفاد کے تحفظ کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومتوں کا فرض ہے کہ عوام کو ریلیف دیں، مگر چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس کابینہ اور حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ڈی ایم چینی کمیٹی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شاہد خاقان عباسی عوام پاکستان پارٹی مہنگی چینی نائب وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم چینی کمیٹی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شاہد خاقان عباسی عوام پاکستان پارٹی مہنگی چینی شاہد خاقان عباسی چینی کی قیمت چینی برآمد مل مالکان نے کہا کہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔