Express News:
2026-06-03@04:25:00 GMT

ایس سی او اعلامیہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT

چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کا 25 واں اجلاس اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں پاکستان اور بھارت خطے کے دو اہم ممالک کے وزرائے اعظم شریک ہیں، جو روز اول سے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گوار دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں تادم تحریرکامیاب نہ ہو سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ کشمیر کا تنازع دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اور سب سے بڑا اور گمبھیر مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے باوجود یہ تنازعہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو سکا۔ بھارت نصف صدی سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں کے باوجود بھارت کشمیر میں استصواب رائے کے ذریعے اس تنازعے کے پرامن حل میں رکاوٹیں کھڑی کرتا چلا آ رہا ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نریندر مودی نے 15 اگست 2019 کے اقدام سے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے اور مختلف جواز بنا کر کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی چالیں چل رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعے کا بے بنیاد الزام پاکستان پر دھر دیتا ہے اور پوری دنیا میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے جس کا بین ثبوت بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافی بیانات ہیں۔ چند ماہ قبل بلوچستان میں جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملے میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں اور پاکستان نے سفارتی سطح پر بھارت کا یہ مکروہ اور گھناؤنا کردار بے نقاب کیا ہے۔

اسی پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہمارے پاس جعفر ایکسپریس پر حملے میں غیر ملکی (بھارت) ہاتھ ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور دنیا سیاسی مفادات کے لیے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو ہرگز تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے خطے اور پوری دنیا کے لیے امن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

ہم اپنے تمام پڑوسیوں سے معمول کے مستحکم تعلقات چاہتے ہیں لیکن دہشت گردی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر پر پوری طرح عمل پیرا ہے اور آیندہ بھی رہے گا۔ وزیر اعظم نے ایران اسرائیل جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو ہمارے اجتماعی ضمیر پر نہ ختم ہونے والا زخم قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے غزہ میں فوری خوں ریزی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بات کی گئی ہے۔ اعلامیے میں جعفر ایکسپریس، خضدار حملوں اور پہلگام واقعے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ بھی اعلامیے کا حصہ ہے کہ تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جانی چاھیئے۔

افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں تمام سیاسی و نسلی گروہوں کی نمایندہ حکومت قائم کی جائے۔ اعلامیے میں غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی ہلاکت اور انسانی المیے کو جنم اور طول دینے والے اسرائیلی اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ فلسطینیوں تک بلا روک ٹوک امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے، جنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

تنظیم کے رکن ممالک نے باہمی تعاون اور اشتراک عمل کو بڑھانے کے لیے سیکیورٹی، معیشت، ثقافتی تبادلوں اور ادارہ جاتی تعمیرات سمیت دیگر مختلف شعبوں میں قربت اور تعاون کو مربوط و مضبوط بنانے کے لیے 24 اہم دستاویزات کی بھی منظوری دی ہے۔ روسی صدر پیوتن نے ایس سی او اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یوکرین تنازعہ بڑھنے کی بڑی وجہ مغرب کو قرار دیا۔ ان کا موقف ہے کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں یوکرین تنازع کی اہم وجوہ ہیں جو روسی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

میزبان ملک چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو تجارت و معیشت کے شعبوں میں دستیاب مواقعوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ایس سی او میں بھارت کی موجودگی میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر جن کا اعلامیے میں ذکر کیا گیا ہے پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم اعلامیے میں اقوام متحدہ کہ پاکستان کرتے ہوئے کی گئی ہے ایس سی او ممالک کے تنظیم کے رہا ہے کے لیے ہے اور امن کے

پڑھیں:

سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی