برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ شبانہ  محمود کو برطانیہ کی وزیر داخلہ مقرر کر دیا۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب ڈپٹی وزیراعظم اینجلا رینر نے پراپرٹی ٹیکس کم ادا کرنے کی غلطی پر استعفیٰ دے دیا۔

اس فیصلے کے تحت وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو ڈپٹی وزیراعظم بنا دیا گیا جبکہ یویٹ کوپر کو نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ ان کی جگہ وزارت داخلہ کا قلمدان شبانہ  محمود کو سونپا گیا، جو اس سے قبل وزیر انصاف کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

44 سالہ شبانہ  محمود کو لیبر پارٹی میں ایک مضبوط، صاف گو اور ’’سیف ہینڈز‘‘ سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ وزارت انصاف میں ان کی جرات مندانہ اور عملی پالیسیوں کو نمایاں اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

شبانہ محمود 17 ستمبر، 1980 کو برمنگھم میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا نام زبیدہ اور والد کا نام محمود احمد ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق ان کے والدین پاکستانی نژاد ہیں اور تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔

اینجلارینر کا استعفیٰ وزیراعظم اسٹارمر کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، جو پہلے ہی پارٹی کے اندرونی مسائل اور وزارتی استعفوں سے دوچار ہیں۔ برطانیہ کے آزاد مشیر برائے وزارتی معیار نے قرار دیا کہ رینر نے وزیر کوڈ کی خلاف ورزی کی کیونکہ انہوں نے نیا گھر خریدتے وقت واجب الادا 40 ہزار پاؤنڈ کا ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

یہ پڑھیں: برطانوی نائب وزیراعظم گھر کی خریداری پر کم ٹیکس ادا کرنے پر عہدے سے مستعفی

رینر نے استعفے میں وزیراعظم سے معافی مانگی اور کہا کہ انہیں مزید ٹیکس مشورہ لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے ڈپٹی پارٹی لیڈر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا، جس سے ڈیوڈ لیمی اس نشست کے لیے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ کابینہ ردوبدل وزیراعظم اسٹارمر کے لیے اپنی ساکھ بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اینجلارینر کی رخصتی نے لیبر حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عوامی سروے میں نائیجل فراج کی ریفارم یوکے پارٹی کو بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

نائیجل فراج نے برمنگھم میں پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رینر کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ لیبر حکومت ’’سنگین بحران‘‘ کا شکار ہے اور ممکن ہے کہ اگلے انتخابات 2027 تک کرانے پر مجبور ہو جائے۔

سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ شبانہ  محمود کی تقرری نہ صرف لیبر پارٹی کے لیے ایک مستحکم انتخاب ہے بلکہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد برادری کے لیے بھی ایک تاریخی لمحہ ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی نژاد کے لیے

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی