برطانوی نائب وزیراعظم انجیلا رینز نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
برطانوی سیاست میں بڑا جھٹکا، وزیرِاعظم کیئر اسٹرمر کی قریبی ساتھی اور ڈپٹی وزیرِاعظم انجیلا رینر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہاؤسنگ سیکریٹری کے منصب کے ساتھ ساتھ لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر بھی تھیں۔
انجیلا رینر پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسٹ سسیکس میں فلیٹ خریدتے وقت درست اسٹامپ ڈیوٹی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ 8لاکھ پاؤنڈز مالیت کے اس فلیٹ پر انہوں نے 30 ہزار پاؤنڈز ٹیکس جمع کرایا، حالانکہ دوسری جائیداد ہونے کے سبب انہیں 70 ہزار پاؤنڈز ٹیکس دینا چاہیے تھا۔ معاملہ کھلنے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ غلط ادائیگی ہوئی، تاہم انہوں نے اسے قانونی مشورے کی خامی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو اسلحے کی فروخت، برطانوی دفتر خارجہ کے افسر نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا
وزیراعظم کے مشیر برائے اخلاقی امور سر لاری میگنس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد رینر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈناخ سمیت حزبِ مخالف کے کئی رہنماؤں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
انجیلا رینر کا استعفیٰ لیبر حکومت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ صرف 14 ماہ قبل اقتدار میں آنے والی اسٹرمر حکومت کو اب ڈپٹی لیڈر کے انتخاب اور نئے ہاؤسنگ سیکریٹری کی تقرری جیسے اہم فیصلوں کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کی بھانجی و برطانیہ کی فنانشل سروسز کی وزیر ٹیولپ صدیق نے استعفیٰ کیوں دیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈپٹی لیڈر کے عہدے پر بائیں بازو کا امیدوار منتخب ہوا تو یہ اسٹرمر کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
پارٹی کے اندر یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ آیا ڈپٹی لیڈر کو دوبارہ ڈپٹی وزیرِاعظم نامزد کیا جائے گا یا نہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹرمر کابینہ میں وسیع ردوبدل پر بھی غور کرسکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔