پی ٹی آئی کے 17 سینیٹرز نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان تحریک انصاف کے 17 سینیٹرز نے ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے اجتماعی استعفیٰ دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر علی ظفر نے استعفوں کی جانچ پڑتال مکمل کر لی، تحریک انصاف کی جانب سے تمام استعفے سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی استعفے بعد میں آئیں گے۔
سینیٹر علی ظفر کے مطابق کمیٹیوں کے اجلاس ہمارے بغیر بھی چل سکتے ہیں اور چلیں گے، احتجاجاً کمیٹیوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں سینیٹر اعظم خان سواتی، سینیٹر علی ظفر، سینیٹر دوست محمد اور سینیٹر ذیشان خانزادہ نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا۔ اعظم سواتی نے پارٹی کی ہدایت پر سینیٹ کی پانچ قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا تھا۔
پاکستان سے ایران جانیوالے زائرین کو اغوا کروانے والے نیٹ ورک کا کارندہ گرفتار
اس حوالے سے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہو کر موجودہ پارلیمانی نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اپنے استعفے اپنے پارلیمانی لیڈر علی ظفر کو بھجوا رہے ہیں جو انہیں سینیٹ میں بھیجیں گے۔
سینیٹر علی ظفر نے اطلاعات نشریات کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کے چیئرمین ذیشان خانزادہ نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے خارجہ امور، خزانہ، تجارت اور نجکاری کی کمیٹیوں سے بھی استعفیٰ دے دیا۔
تقریبا 15 ہزار شہریوں کی جیبیں کٹ گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کمیٹیوں سے استعفی قائمہ کمیٹیوں سے سینیٹر علی ظفر دے دیا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :