پنجاب میں ’نیفے میں پستول چلنے‘ کے بڑھتے واقعات، جنسی جرائم کے ملزمان نشانہ بننے لگے
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ دنوں میں چھیڑ چھاڑ اور جنسی جرائم کے ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے دوران تقریباً 6 واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جن میں گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں ملزمان کے ’نیفے میں پستول چلنے‘ کے باعث وہ اپنے نازک اعضا سے محروم ہو گئے۔
A sex predators is on the loose in streets and on roads in Sialkot…………
A sex offender riding in a bike touched inappropriately one of two girls entering their home in a town in Sialkot, city of Pakistan’s largest province Punjab.
— Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) September 4, 2025
یہ واقعات سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصروں کا باعث بنے اور عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ پولیس کی حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور قصور کے واقعاتپہلا واقعہ 25 جولائی کو قصور میں سامنے آیا، جب ایک ویڈیو میں ایک نوجوان کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرتا دکھائی دیا۔
پولیس نے 27 جولائی کو ملزم کو گرفتار کیا تو اس کا پستول نیفے میں چل گیا اور وہ زخمی ہو گیا۔
اس کے بعد 22 اگست کو قصور میں ہی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی۔ ملزم کو گرفتار کرتے وقت پھر وہی صورتحال پیش آئی اور پستول چلنے سے وہ اپنے عضوِ تناسل سے محروم ہو گیا۔
ملتان، وہاڑی اور لاہور کے واقعات24 اگست کو ملتان کے حرم گیٹ علاقے میں ایک طالبہ سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم پولیس گرفتاری سے بچتے ہوئے اپنے ہی پستول سے زخمی ہو گیا۔
31 اگست کو وہاڑی میں بھی چھیڑ چھاڑ کے ایک ملزم نے پولیس پر فائر کرنے کے لیے پستول نکالا جو نیفے میں چل گیا، اور ملزم ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
28 yrs old Belgian woman was raped & sexually assaulted for 5 days in Punjab province, #Pakistan.
She was found on the street with her hands & feet tied.
Her horrific story is the testimony that Pak is unsafe for women!#PakistanSharmindaHai@amritabhinder @LevinaNeythiri pic.twitter.com/V0QOCBJy7Z
— ManhasAnupama (@manhas_anupama) March 23, 2025
2 ستمبر کو لاہور میں ایک اور ملزم، جو 8 سالہ بچی سے زیادتی کے الزام میں پکڑا گیا تھا، دوبارہ گرفتاری کے دوران اپنے پستول سے خود ہی زخمی ہو گیا۔
سیالکوٹ کا تازہ واقعہ5 ستمبر کو سیالکوٹ میں ماں بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والا محمد عرفان عرف فورمین پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔
گرفتاری کے دوران اس کا پستول چل گیا اور وہ بھی اپنے نازک اعضا سے محروم ہو گیا۔
اجتماعی زیادتی کے سنگین واقعاتاسی دوران لاہور میں اجتماعی زیادتی کے دو بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔
29 مئی کو لاہور کے علاقے چوہنگ میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلے میں 3 ڈاکو اپنی ہی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ ڈاکو ڈکیتی کے ساتھ ساتھ زیادتی کے ایک کیس میں بھی ملوث تھے۔
یکم اگست کو چوہنگ ہی میں 4 ملزمان نے شوہر کے سامنے بیوی سے اجتماعی زیادتی کی۔ پولیس کے مطابق بعد میں کارروائی کے دوران چاروں ملزمان ہلاک کر دیے گئے۔
ماہرِ قانون کی رائےسینیئر وکیل فیصل چوہدری نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’نیفے میں پستول چلنے‘ کے یہ واقعات سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں زیرِ بحث ہیں، مگر یہ ہمارے عدالتی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
Another horrifying case from kasur, Punjab. A minor girl was nearly assaulted while playing in the street on July 25.
This is the same city where 6 year old Zainab was brutally assaulted. Why do such vile crimes keep happening there? pic.twitter.com/wShVRGHVFd
— Faizan (@faizannriaz) July 28, 2025
ان کے مطابق اگر عدالتیں بروقت انصاف فراہم کریں تو پولیس کو ایسے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم ان واقعات کی سچائی پر سوال اٹھتے ہیں اور یہ شفاف تفتیش کا تقاضا کرتے ہیں۔
عوامی ردعمل اور ضرورتان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں جنسی جرائم کے خلاف پولیس کی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں، لیکن ’نیفے میں پستول چلنے‘ کی اصطلاح بار بار استعمال ہونے سے عوام میں طنزیہ بحث چھڑ گئی ہے۔
کچھ لوگ اسے فوری انصاف سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پولیس اور عدالتی نظام کو چاہیے کہ شفاف تحقیقات کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ ساتھ ہی، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنسی حملہ جنسی مجرم چھیڑچھاڑ سیالکوٹ قانون قصور لاہور ماہرین ملتان نیفے میں پستول وہاڑی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنسی حملہ چھیڑچھاڑ سیالکوٹ لاہور ماہرین ملتان وہاڑی زیادتی کے کے دوران کے مطابق اگست کو کے ساتھ ہو گیا
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں