سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی اسکن کینسر سرجری
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر جوبائیڈن ایک بار پھر آپریشن تھیٹر پہنچ گئے، اس بار ان کی اسکن کینسر کی سرجری کی گئی ہے۔
82 سالہ بائیڈن پہلے ہی پروسٹیٹ کینسر کی خطرناک قسم سے لڑ رہے ہیں، جس کی تشخیص انہوں نے رواں برس مئی میں عوام کے سامنے کی تھی۔ اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ بیماری کافی حد تک پھیل چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بائیڈن کو کینسر کی وجہ سے سرجری کرانا پڑی ہو۔ 2023 میں صدارت کے دوران بھی ان کے سینے سے اسکن کینسر کے خلیات نکالے گئے تھے، جبکہ اس سے قبل بھی وہ کئی بار مختلف اقسام کے کینسر کی سرجریز کروا چکے ہیں۔ تازہ ترین آپریشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بائیڈن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ان کی موہس سرجری (Mohs surgery) کی گئی ہے۔ یہ طریقہ علاج جلد کے کینسر زدہ حصے کو احتیاط کے ساتھ کاٹ کر نکالنے پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ مرض مزید نہ پھیل سکے۔ تاہم ترجمان نے ان کی صحت کی موجودہ صورتحال یا آئندہ کے علاج کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
حالیہ دنوں میں بائیڈن کے سر کے دائیں حصے پر زخم نما نشان دیکھا گیا، جس پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ جلد اسی حصے سے نکالی گئی ہوگی۔ مگر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ جوبائیڈن کے بڑے بیٹے بیو بائیڈن 2015 میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ بائیڈن خود بھی ہمیشہ کینسر کے خلاف آگاہی بڑھانے اور علاج کی سہولیات بہتر بنانے پر زور دیتے رہے ہیں، اور آج وہ خود اسی مرض کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کینسر کی
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔