امریکا-بھارت کشیدگی، مودی کا اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے گریز
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس ماہ نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (UNGA) کے سالانہ اجلاس میں جنرل ڈیبیٹ سے خطاب نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی کے ساتھی مکیش امبانی امریکی پابندیوں کے برخلاف روسی تیل سے اربوں کما لیے
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری تازہ فہرست کے مطابق بھارت کی نمائندگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کریں گے، جو 27 ستمبر کو خطاب کریں گے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80 واں اجلاس 9 ستمبر سے شروع ہوگا، جبکہ جنرل ڈیبیٹ 23 سے 29 ستمبر تک جاری رہے گی۔
روایت کے مطابق سب سے پہلے برازیل اور پھر امریکا خطاب کریں گے۔ اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 23 ستمبر کو دوسری مدتِ صدارت میں اپنا پہلا خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ-مودی 35 منٹ کی کال جس نے بھارت امریکا تعلقات میں دراڑ ڈال دی
ابتدائی فہرست میں وزیراعظم مودی کو 26 ستمبر کو خطاب کرنا تھا تاہم اب اس میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اسی دن اسرائیل، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے رہنماؤں کے بھی خطاب متوقع ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق یہ اجلاس دنیا کی ’سب سے مصروف سفارتی سرگرمی‘ قرار دیا جاتا ہے، جو اس بار اسرائیل-حماس جنگ اور یوکرین تنازع کے سائے میں منعقد ہو رہا ہے۔
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، صنفی مساوات، عالمی صحت، ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امریکا بھارت ٹرمپ جنرل اسمبلی جے شنکر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا بھارت جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کریں گے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔