پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پاکستان میں طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے بڑھ گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک 907 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 1044 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث 223 افراد جاں بحق اور 654 زخمی ہوئے، جب کہ خیبر پختونخوا میں 502 ہلاکتیں اور 218 زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں بارشوں کے باعث 58 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے جبکہ بلوچستان میں بھی 26 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔
گلگت بلتستان میں بارشوں کے باعث 41 افراد جاں بحق اور 52 زخمی ہوئے جبکہ آزاد کشمیر میں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 7 ہزار 848 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ اب تک 6 ہزار 180 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے کے باعث
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔