امریکا میں ہنڈائی ایل جی فیکٹری پر چھاپہ، 475 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
امریکا میں امیگریشن حکام نے ریاست جارجیا میں ہنڈائی موٹر اور ایل جی کی بیٹری فیکٹری پر بڑا چھاپہ مارا، جس میں475 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ 300 سے زائد کوریائی شہری زیرِ حراست
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار افراد میں300 سے زائد جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔اس واقعے پر جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے فوری ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ گرفتار شہریوں کےتحفظ اور ان کے قانونی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اورفوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کوریائی شہریوں اور کمپنیوں کےمفادات متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن جا کر امریکی حکام سے براہ راست بات چیت کی جا سکتی ہے۔
خبررساں اداروں کے مطابق،ڈونلڈ ٹرمپ نے گرفتار ہونے والے جنوبی کوریائی ورکرز کوغیرقانونی تارکینِ وطن قرار دیا ہے، جس پر جنوبی کوریا کی حکومت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا اس وقت ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور امریکا میں بڑی سطح پرسرمایہ کاری کر رہا ہے۔ موجودہ واقعہ دونوں ممالک کے تجارتی اور سفارتی تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔