ٹرمپ کے حکم پر جنوبی کوریا کے 300 ورکرز کی گرفتاری، دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
امریکا کی ریاست جارجیا میں ہنڈائی موٹر اور ایل جی کی مشترکہ بیٹری فیکٹری پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے چھاپے کے دوران 475 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں 300 سے زائد جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں۔
اس بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ہنگامی ردعمل کا حکم دیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو اپنے شہریوں کی گرفتاری پر فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی کوریا میں امریکی فوجی اڈوں کی زمین امریکی ملکیت ہونی چاہیے، ٹرمپ
انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی سرزمین پر سرمایہ کاری کرنے والی کورین کمپنیوں کے کاروباری مفادات اور شہریوں کے حقوق کو کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن تھے اور آئی سی سی نے صرف اپنا کام کیا ہے، آئی سی ای حکام کے مطابق کچھ افراد غیرقانونی طور پر سرحد پار کر کے آئے تھے، کچھ ایسے ویزوں پر آئے جن پر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی جبکہ کئی نے ویزوں کی مدت سے تجاوز کیا۔
جنوبی کوریا کی حزبِ اختلاف پیپلز پاور پارٹی نے گرفتاریوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یہ معاملہ امریکی سرزمین پر مقیم کورین کمپنیوں اور برادریوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ پارٹی چیئرمین جانگ ڈونگ ہیئوک نے کہا کہ حکومت کی عملی سفارت کاری امریکی حکام کو کورین شہریوں کے تحفظ اور کاروباری استحکام کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہی ہے۔
ہنڈائی موٹر نے ایک بیان میں کہا کہ وہ صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور گرفتار شدگان میں سے کوئی بھی کمپنی کا براہِ راست ملازم نہیں ہے۔ ایل جی انرجی سلوشن نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی امن کی پیشکش ایک بار پھر مسترد کر دی
یہ پلانٹ، جو ابھی زیرِ تعمیر ہے، برقی گاڑیوں کے لیے بیٹریاں تیار کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ جنوبی کوریا کی کمپنیاں امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں تاکہ امریکی منڈی تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں اور ٹرمپ کی جانب سے لگائے جانے والے تجارتی محصولات سے بچ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔