امریکا ، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250916-06-8
سیول (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے سہ فریقی کثیر الجہتی فوجی مشقیں شروع کر دیں۔ جنوبی کوریا ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کے روز شروع ہونے والی ان مشقوں کو شمالی کوریا کی طرف سے لاحق عسکری خطرات کے مقابل 3طرفہ دفاعی تعاون کو گہرا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ فریڈم ایج نامی یہ مشقیں جنوبی کوریا کے جنوبی جزیرے جیجو کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں 19 ستمبر تک جاری رہیں گی۔جنوبی کوریا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ترجمان یانگ سنگ نے بتایا ہے کہ فریڈم ایج’ مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری اور میزائل خطرات کو روکنا ہے ۔
سیول: سہ فریقی مشقوں میں امریکا اور جنوبی کوریا کے فوجی شریک ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔