دبئی میں ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کی رونمائی ہوئی جس میں ایونٹ کی ٹیموں کے کپتان اور ایشیا کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے کپتان محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ ایک ماہ سے اس ایونٹ کی تیاری کررہے ہیں، ہم نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے لیکن اس کرکٹ کو لے کر اس ٹورنمنٹ میں نہیں جاسکتے۔ آئی ایل ٹی20 میں بڑے پلیئرز کے ساتھ کھیلے ہیں جس سے ہمیں فائدہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ: سابق کرکٹرز کا ٹیم کو سپورٹ کرنے پر زور، بولنگ اور بیٹنگ کمبینیشن پر تحفظات

پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ ہم اچھی کرکٹ کھیلتے آرہے ہیں، تمام کھلاڑی ایشیا کپ کے لیے تیار ہیں، ہمارے چند پلیئرز کے لیے یہ بڑا ایونٹ ہے تاہم ہم اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔

انڈیا کے کپتان سوریا کمار یادیو نے کہا کہ دبئی آکر ہماری بہتر تیاری ہورہی ہے اور تمام ٹیموں کے ساتھ بیٹھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ ٹیم کے طور پر ہم نے جنوری فروری میں کرکٹ کھیلی، اس کے بعد آئی پی ایل بھی ہوئے لیکن جون کے بعد کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ چیلنجز کا نام ہے، دیکھتے ہیں اس بار کس طرح کھیلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ کے ٹی20 مرحلے میں بننے والے اہم ریکارڈ، پاکستانی کھلاڑی کہیں موجود نہیں

افغانستان کے کپتان راشد خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اچھی کرکٹ کھیلنے پر توجہ دے رہے ہیں، فی الحال سیمی فائنل کے بارے میں نہیں سوچا، ہم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچے تھے، محنت کرنا ہمارا کام ہے۔

عمان کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہم نے 3 دفعہ ورلڈ کپ کھیلا ہے لیکن ایشیا کپ پہلی بار کھیل رہے ہیں، تاہم اس ایونٹ کے لیے تیار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے کپتان ایشیا کپ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان