WE News:
2026-06-03@03:22:12 GMT

نیپال میں ’جنریشن زی‘ سڑکوں پر کیوں نکلی؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

نیپال میں ’جنریشن زی‘ سڑکوں پر کیوں نکلی؟

نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بدعنوانی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران پولیس جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوگئے۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، استعفیٰ اس لیے دیا گیا تاکہ موجودہ بحران کا آئینی حل نکالا جاسکے۔

سوشل میڈیا پابندی اور احتجاج کا آغاز

احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت نے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جن میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں، پر پابندی عائد کردی۔

ناقدین کے مطابق یہ اقدام نوجوانوں کی بدعنوانی مخالف تحریک کو دبانے کی کوشش تھی، اگرچہ حکومت نے پیر کی رات یہ پابندی ختم کردی تھی لیکن احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا۔

پرتشدد مظاہرے

کٹھمنڈو سمیت کئی شہروں میں ہزاروں نوجوان، جو خود کو ’جنریشن زی‘ قرار دیتے ہیں، سڑکوں پر نکل آئے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی چارج، پانی کی توپیں اور براہِ راست فائرنگ کی۔

منگل کو مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ اور نیپالی کانگریس پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو آگ لگا دی جبکہ سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبا سمیت کئی سیاست دانوں کے گھروں پر بھی حملے کیے گئے۔

ہلاکتیں اور زخمی

بی بی سی نیپالی کے مطابق اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 200 زخمی ہوئے ہیں۔ اسپتالوں میں گولیوں اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہونے والے نوجوانوں کا علاج جاری ہے۔ پولیس اہلکار بھی جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کا کردار

نیپالی فوج کے سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے کہا ہے کہ مظاہرین بحران کا فائدہ اٹھا کر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حالات قابو میں نہ آئے تو فوج کارروائی کرے گی، تاہم ساتھ ہی مذاکرات کی بھی پیشکش کی ہے۔

نوجوانوں کی قیادت میں نئی تحریک

یہ تحریک کسی جماعت یا شخصیت کی قیادت میں نہیں بلکہ نوجوانوں اور طلبہ کی کال پر چل رہی ہے۔ مظاہرین کے مطابق ان کا مقصد صرف سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کرانا نہیں بلکہ بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ بھی ہے۔

’نیپو بے بی‘ اور ’نیپو کڈز‘ جیسے سلوگن اس احتجاج کی علامت بن گئے ہیں، جو سیاسی خاندانوں کی عیاشیوں کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔

نیپو کڈز؟

احتجاج کی ایک نمایاں خصوصیت 2 نعرے ہیں جو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر استعمال کیے جا رہے ہیں، نیپو بے بی اورنیپوکڈز۔

یہ دونوں اصطلاحات حالیہ ہفتوں میں نیپال میں اس وقت مقبول ہوئیں جب سیاست دانوں اور ان کے خاندانوں کی عیش و عشرت بھری زندگیوں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ یہ لوگ بغیر کسی قابلیت کے محض عوام کے پیسے پر عیش کر رہے ہیں جبکہ عام نیپالی شہری مشکلات کا شکار ہیں۔

ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر وائرل ویڈیوز میں سیاسی خاندانوں کی پرتعیش زندگیوں، ڈیزائنر کپڑوں، غیر ملکی سفر اور مہنگی گاڑیوں، کا موازنہ نوجوانوں کی تلخ حقیقتوں سے کیا گیا ہے، جن میں بیروزگاری اور ہجرت پر مجبور ہونا شامل ہے۔

یہ نعرے اب عدم مساوات کے خلاف گہرے غصے کی علامت بن گئے ہیں، جہاں مظاہرین اشرافیہ کی زندگی کو عام شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی، کچھ وزرا نے سکیورٹی فورسز کی پناہ لے لی ہے جبکہ مظاہرین کرفیو کو نظرانداز کرتے ہوئے سڑکوں پر موجود ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو بدامنی مزید بڑھ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنریشن زی جنریشن زیڈ کٹھمنڈو نیپال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنریشن زیڈ کٹھمنڈو نیپال سوشل میڈیا کے مطابق

پڑھیں:

ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف

ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔

چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت