نیپال کے نوجوان کس کو اپنا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
نیپال کے نوجوانوں میں نئے سیاسی رہنما کے طور پر ابھرنے والے کٹھمنڈو کے میئر بالندر شاہ نئے سیاسی ہیرو بن گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2022 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہونے والے نوجوان سیاسی رہنما بالندر شاہ ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے پسندیدہ امیدوار بن گئے۔
حالیہ متعدد سروے بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خاص طور پر 'جنریشن زی بالندر کو اپنا مستقبل کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔
ایک سروے میں تو جنریشن زی میں سے 74 فیصد نے اپنا ووٹ بالندر شاہ کے حق میں دیا۔
سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے ان کی حمایت میں لکھا کہ مستقبل کی قیادت کے لیے ہمارا پہلا انتخاب بالندر ہے۔
نوجوانوں کے پسندیدہ لیڈر بننے کے پیچھے بالندرکے قابل رشک عملی اقدامات اور شفافیت ہے جس نے انھیں دیگر سیاسی رہنماؤں کے مقابلے سرخرو کیا۔
بطور میئر سڑکوں کی صفائی، غیر قانونی عمارتوں کا انہدام، سرکاری اسکولوں میں اصلاحات اور کرپٹ نجی اسکولوں پر کریک ڈاؤن کی پالیسیز ان کی پہچان ہیں۔
عالمی مؤقر جریدوں نے بھی بالندر کو 100 ابھرتی ہوئی شخصیات میں شامل کرتے ہوئے ان کے "گراس روٹ انداز" اور شفافیت کو سراہا۔
اسی طرح حالیہ مظاہروں میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے سوشل میڈیا پابندی اور کرپشن کے خلاف شروع ہونے والی "جنریشن زیڈ" احتجاج میں بالندر شاہ نے اپنی حمایت کا اظہار کیا، اور نوجوانوں کو سیاسی جماعتوں کی مداخلت سے خبردار کیا۔
جس کے نتیجے میں نہ صرف نیپال کے وزیر اعظم نے استعفیٰ دیدیا بلکہ سوشل میڈیا پر پابندی بھی واپس لے لی گئی۔
اس طرح بالندر بھی بنگلا دیش کے ہیرو باہید اسلام کی طرح ایسے منفرد سیاسی ہیرو کے طور پر اُبھرے جو ملک کی نئی اور تازہ دم قیادت کا باعث بنے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بالندر شاہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ