بھارت میں مودی کا دورِ اقتدار؛ آزادیٔ اظہار جرم بن گیا، اختلافِ رائے گناہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
بھارت میں نریندر مودی کے دور اقتدار میں آزادیٔ اظہار جرم بنا دیا گیا ہے اور اختلاف رائے کا اظہار کرنا گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔
ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار میں بھارت میں آزادیٔ اظہار اور صحافت پر بڑھتی پابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی جریدے الجزیرہ نے تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ، جس میں مودی کے زیر اقتدار بھارت میں سنسرشپ کے بڑھتے رجحان کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے الجزیرہ کے مطابق سہیوگ کے ذریعے میٹا اور گوگل سمیت متعدد سوشل میڈیا کمپنیوں کو حکومت مخالف پوسٹس ہٹانے کا نوٹس دے دیا۔ اکتوبر 2024 میں مودی سرکار نے سہیوگ پلیٹ فارم کے ذریعے ضلعی افسران اور پولیس کو بھی سنسرشپ اختیارات دیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024 سے اب تک 3,465 URLs پر تقریباً 300 ٹیک ڈاؤن کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ سہیوگ سیکشن 79(3)(ب) استعمال کر کے سپریم کورٹ کے حفاظتی اقدامات کو بائی پاس کرتا ہے۔ ہزاروں نامعلوم افسران یکطرفہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کونسی معلومات "غیر قانونی" ہیں اور بھارت بھر میں بلاک ہونی چاہییں ۔
اسی طرح ایکس کے مطابق سیکشن 69A صرف استثنائی حالات میں استعمال ہوتا ہے، مگر سیکشن 79(3)(ب) میں افسران کو مکمل بلاکنگ اختیار دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں 2014 کے بعد سے ٹیک ڈاؤن آرڈرز میں مسلسل اضافہ ہوا اور 2022 تک یہ 14 گنا بڑھ گئے۔
الجزیرہ کے مطابق آزاد میڈیا آؤٹ لیٹ مکتوب، صحافی انورا دھا بھاسن (کشمیر ٹائمز)، اور حتیٰ کہ رائٹرز کو بلاک کرنے کے بھی احکامات دیے گئے۔ پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستانی صحافیوں ، نیوز آؤٹ لیٹس اور سلیبرٹیز کو بڑے پیمانے پر بلاک کیا گیا۔ اسی طرح پاک بھارت کشیدگی کے دوران کئی بھارتی صحافی اور رائٹرز جیسے بین الاقوامی نیوز آؤٹ لیٹس بھی بلاک ہوئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے نام پر وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بینرجی کی میم بھی بلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔
ڈی ڈبلیو نیوز کے مطابق بھارت میں آپریشن سندور کی ناکامی شائع کرنے پر نیوز ویب سائٹ "The Wire" کو بھی بلاک کر دیا گیا تھا ۔ بھارت دنیا میں آزادیِ صحافت کی عالمی درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے 151 ویں نمبر پر آ چکا ہے۔
مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے صحافی اور لکھاریو ں کو منظم طور پر خاموش کرانے کے لیے اظہارِ رائے پر قدغن لگا رہی ہے۔ ہائی پروفائل بلاکنگ کیسز، جیسے مکتوب، انورا دھا بھاسن اور کتابوں کی پابندی، مودی سرکار کی آمریت کے عکاس ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت میں کے مطابق دیا گیا گیا ہے
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت