سوریا کمار یادیو کو محسن نقوی اور سلمان آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کو ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی اور پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑ گیا۔
سوریا کمار یادیو وزیر داخلہ محسن نقوی اور اور کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے کی وجہ سے غدار قرار دے دیا گیا۔
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے پہلے، ٹرافی کی رونمائی اور کپتانوں کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو توجہ کا مرکز بن گئے۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جارحیت ہمیشہ میدان میں ہوتی ہے، اور جارحیت کے بغیر، مجھے نہیں لگتا کہ آپ یہ کھیل کھیل سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میں میدان میں اترنے کے لیے بہت پُرجوش ہوں۔
پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد سوریا کمار یادیو نے سلمان علی آغا سے ہاتھ ملایا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو شہہ سرخیوں کی زینت بن گئی۔
Ye gaddari desh kabhi nahi bhulega Suryakumar Yadav aur BCCI.
— Sickular Circus (@sickularcircus) September 9, 2025
اس وائرل ویڈیو میں بھارتی کپتان کو پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر بھارتی کپتان سخت تنقید کی زد میں آگئے۔
An Indian Captain posing for pictures & shaking hands with the Federal Home Minister of Pakistan is peak shamelessness on BCCI's part. Mohsin Naqvi has blood on his hands and was calling for India's destruction during Op Sindoor!! #AsiaCup pic.twitter.com/zZXa4ig595
— Atishay Jain (@AtishayyJain96) September 9, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ بھارتی کپتان کا پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ سے مصافحہ کرنا اور تصویریں بنوانا بےشرمی کی انتہا ہے۔ محسن نقوی کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، انہوں نے آپریشن سندور کے دوران بھارت کو تباہ کرنے کا کہا تھا۔
Captain Suryakumar Yadav handshake with Pakistan's interior minister Mohsin Naqvi who recently given India a threat after Operation Sindoor.
I don't know how these people see their faces in mirror. They kill our innocent people & here we are handshaking with them. Shameful!! pic.twitter.com/QXZCHpMmcb
— Rajiv (@Rajiv1841) September 9, 2025
ایک اور صارف نے لکھا کہ اسے شرمناک قرار دیا اور لکھا کہ کیپٹن سوریا کمار یادیو نے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہاتھ ملایا جنہوں نے حال ہی میں آپریشن سندور کے بعد بھارت کو دھمکی دی تھی۔ پتہ نہیں یہ لوگ آئینے میں اپنے چہرے کیسے دیکھتے ہیں۔ وہ ہمارے معصوم لوگوں کو مارتے ہیں اور یہاں ہم ان سے ہاتھ ملا رہے ہیں، یہ شرمناک ہے۔
From boycott to handshake ,India captain SKY meet Mohsin naqvi pic.twitter.com/dZ0BhSEh8K
— Huzaifa khan (@HuzaifaKhan021) September 9, 2025
ایک اور صارف لکھا کہ بائیکاٹ سے مصافحہ تک، بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کی محسن نقوی سے ملاقات۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوریا کمار یادیو بھارتی کپتان آغا سے ہاتھ محسن نقوی لکھا کہ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔