نائن الیون کے 24 سال: امریکا پر ہوا تاریخی حملہ جس نے دنیا کا رُخ بدل دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
آج سے 24 سال قبل 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے دہشتگرد حملوں نے دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
القاعدہ کے خودکش حملہ آوروں نے 4 طیاروں کو اغوا کرکے امریکا کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا، جس میں مجموعی طور پر 2 ہزار 977 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں بعد ازاں بیماریوں کا شکار ہو کر جان سے گئے۔
حملے کی تفصیلامریکن ایئرلائنز فلائٹ 11 اور یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 175 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی شمالی اور جنوبی ٹاورز سے ٹکرا دیا گیا۔
صرف 17 منٹ کے وقفے سے ٹاورز کو نشانہ بنایا گیا، جو آگ اور دھویں میں گھِر گئے اور دو گھنٹے کے اندر زمیں بوس ہوگئے۔
ایک اور طیارہ، امریکن ایئرلائنز فلائٹ 77، امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون سے ٹکرایا۔
چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 93، پنسلوانیا کے علاقے شینکس ویل میں اس وقت گر کر تباہ ہوا جب مسافروں نے اغواکاروں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ خیال ہے کہ ہائی جیکرز کا ہدف امریکی کانگریس تھی۔
جانی نقصانورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 2 ہزار 606 افراد مارے گئے جن میں 343 فائر فائٹرز اور 72 پولیس اہلکار شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:قدامت پسند نوجوان رہنما چارلی کرک ہلاک، امریکا میں 4 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان
پینٹاگون میں 125 افراد ہلاک ہوئے جبکہ چاروں پروازوں پر موجود 246 مسافر اور عملہ بھی جان سے گیا۔
طویل المدتی اثراتنائن الیون کے بعد زہریلے ملبے کے باعث ہزاروں متاثرین اور ریسکیو اہلکار کینسر اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوئے۔
2025 تک ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہیلتھ پروگرام کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد کینسر میں مبتلا اور 8 ہزار 200 سے زائد افراد ان بیماریوں کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
پس منظر اور ردعملیہ منصوبہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی نگرانی میں بنایا گیا، جبکہ خالد شیخ محمد کو اس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔
حملے کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے دوران بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔ خالد شیخ محمد تاحال گوانتانامو بے میں قید ہے۔
امریکا نے اپنی سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) قائم کیا، جبکہ پیٹریاٹ ایکٹ جیسے قوانین متعارف کرائے گئے۔
یادگاریں اور تعمیر نونیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ آج نائن الیون میموریل اور میوزیم موجود ہے جبکہ ’ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ یا فریڈم ٹاور 1,776 فٹ بلند ہے۔
پینٹاگون کے متاثرہ حصے کو ایک سال کے اندر دوبارہ تعمیر کر لیا گیا اور اگست 2002 میں دفاتر کھول دیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9/11 القاعدہ امریکا ورلڈ تریڈ سینٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: القاعدہ امریکا ورلڈ تریڈ سینٹر ایئرلائنز فلائٹ ورلڈ ٹریڈ سینٹر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔