سی ڈی اے انتظامیہ ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، چوہدری محمد یسین WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے تحت سی ڈی اے انتظامیہ ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اس سلسلے میں متعددبار سی ڈی اے انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی جواب جمع کروایا کہ جلد سی ڈی اے ملازمین کے پلاٹوں کی قر عہ اندازی کروائی جائے گی لیکن اس فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا

سی ڈی اے مزدو ریونین کی سنیئر قیادت نے بھی کئی بار چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا،ممبراسٹیٹ طلعت محمودگوندل اور متعلقہ حکام سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے لیے درخواست کی لیکن سی ڈی اے انتظامیہ آج تک عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد سے گریزاں ہے اس سلسلے میں سی ڈی اے مزدور یونین کی طرف سے سولہ ستمبربروزمنگل کو ہونے والے احتجاج کے حوالے سے سی بی اے کمیٹی پارلیمنٹ لاجز اینڈ ہاسٹل کے زیر اہتمام میٹنگ کاانعقاد کیا گیا جس میں سی ڈی اے مزدو ریونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین،اسدمحمود،راجہ رئیس سمیت دیگرعہدیداران اور ملازمین نے کثیر تعدادمیں شرکت کی،اس موقع پرخطا ب کرتے ہوئے چوہدری محمد یسین نے کہا کہ پلاٹ ہماراحق ہے اور ریاست کی ذمہ داری بھی ہے،

سی ڈی اے انتظامیہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح اقدامات کے باوجود سی ڈی اے ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کرنے سے قاصر ہے اور تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جس کی وجہ سے سی ڈی اے ملازمین میں سخت بے چینی پائی جارہی ہے،اس موقع پر پارلیمنٹ لاجز اینڈ ہاسٹل کے ایگزیکٹوچیئرمین سلطان بہادر،چیف آرگنائزرراجہ شکیب الرحمان،چیئرمین ساجد رشید،صدرچوہدری نثار،جنرل سیکرٹری قاری عمردراز،بابر حسین اعوان،حاجی عبدا لصبور،اظہر حسین،ملک محمد حنیف و دیگر نے کہا کہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں دی گئی احتجاجی کال میں تمام ملازمین بھرپورشرکت کریں گے تاکہ ہم انتظامیہ کو یہ بتاسکیں کہ مزدورطاقت ہیں اور وہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کی جانب سے نالوں اور آبی گزر گاہوں پر پلاٹ الاٹ کرنے کا انکشاف سی ڈی اے کی جانب سے نالوں اور آبی گزر گاہوں پر پلاٹ الاٹ کرنے کا انکشاف اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی اور اہلیت کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر صدر مملکت آصف علی زرداری 12ستمبر سے چین کا 10روزہ دورہ کرینگے سی ڈی اے کا سواں گارڈن ہاؤسنگ اسکیم کو شوکاز نوٹس جاری،تفصیلات سب نیوز پر ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران اور اہلیہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم جلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کرنے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے سی ڈی اے انتظامیہ چوہدری محمد یسین اسلام آباد ہائی ہائی کورٹ سب نیوز

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم