نام رکھنے پر اختلاف: ماں باپ طلاق لینے پر تل گئے، بے نام بچہ دربدر
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ایک چینی جوڑا صرف اس وجہ سے طلاق کی دہلیز تک پہنچ گیا کہ دونوں اپنے بچے کا نام رکھنے پر متفق نہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کے گھٹنوں نے خالص سونے کے سینکڑوں دھاگے اگل دیے، یہ کیوں کر ہوا؟
نام پر جاری وہ تنازعہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ نہ صرف بچے کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ جارین نہیں ہو سکا بلکہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کی ویکسینیشن ممکن نہ ہو سکی۔
پودونگ نیو ایریا پیپلز کورٹ شنگھائی میں حال ہی میں سنے گئے اس انوکھے کیس میں بتایا گیا کہ جوڑے نے سنہ 2023 میں شادی کی اور اگلے سال ان کے ہاں ایک صحتمند بیٹے کی پیدائش ہوئی مگر خوشیوں کا یہ سلسلہ جلد ہی اس وقت بکھرنے لگا جب والدین اپنے بچے کے نام پر متفق نہ ہو سکے۔
ہر فریق اپنے منتخب کردہ نام پر اصرار کرتا رہا اور ایک دوسرے سے اصل دستاویزات اور پاور آف اٹارنی کا مطالبہ کرتا رہا مگر کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی شہادتوں سے معلوم ہوا کہ والدین نے علیحدہ علیحدہ اسپتال جا کر اپنے پسندیدہ نام کے اندراج کی کوشش کی لیکن دونوں کی درخواستیں ضوابط کے خلاف ہونے کی وجہ سے مسترد کر دی گئیں۔
مزید پڑھیے: 61 برس پہلے جنسی تشدد کے خلاف کامیاب بچاؤ کرنے والی خاتون بالآخر بری، سزا کیوں ہوئی تھی؟
عدالت نے کہا کہ بچہ ایک سال سے زیادہ عمر کا ہو چکا ہے لیکن اس کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ تک نہیں، نہ وہ اپنے خاندان میں رجسٹر ہو سکا ہے اور نہ ہی ویکسینیشن کروائی جا سکتی ہے۔
جج نے زور دیا کہ پیدائش کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بچے کی قانونی شناخت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اگر والدین ذاتی اختلافات کی بنا پر اس عمل میں تاخیر کرتے ہیں تو یہ بچے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور دونوں والدین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
مزید برآں عدالت نے والدین کو یاد دلایا کہ وہ اپنے بچوں کو جذباتی تنازعات کا ہتھیار نہ بنائیں اور نہ ہی ان تنازعات کی آڑ میں اپنی سرپرستی کی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کریں۔
بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت نے ایک خصوصی حکم جاری کیا جسے ’نوٹس آف کیئر فار مائنر چلڈرن‘ کہا گیا جس میں والدین کو مخصوص مدت کے اندر پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا پابند کیا گیا لیکن والدین اصل دستاویزات کی تحویل پر بھی جھگڑنے لگے۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
بالآخر کئی بار ثالثی کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ پیدائش کا اصل سرٹیفکیٹ وقتی طور پر عدالت کی تحویل میں رکھا جائے گا جس کے بعد اسے ماں کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ بچے کی قانونی رجسٹریشن مکمل کر سکے۔
یہ انوکھا کیس چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور لوگوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’ایسے لوگوں کو بچے پیدا ہی نہیں کرنے چاہییں‘۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں جنات کے خلاف خاتون کے اغوا کا مقدمہ زیرسماعت، تحقیقاتی کمیٹی سرگرم
جبکہ ایک اور کا کہنا تھا کہ ’یہ سب فارغ لوگ ہیں۔ نام تو بعد میں بھی بدلا جا سکتا ہے، یہ صرف بچے کا وقت ضائع کر رہے ہیں، ایسے والدین قابل بھروسہ نہیں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے کے نام پر جھگڑا بے نام بچہ چین شنگھائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بے نام بچہ چین شنگھائی پیدائش کا عدالت نے بچے کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :