4 تاریخی مقامات کی دوبارہ کھدائی، 800 ملین روپے مختص
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت نے 4 تاریخی مقامات پر دوبارہ کھدائی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی قدیم حیثیت اور اہمیت کے بارے میں مزید شواہد سامنے لائے جا سکیں۔
یہ کھدائی ٹیکسلا، قلعہ روہتاس، ٹلہ جوگیاں اور چولستان کے قلعوں پر اکتوبر سے شروع ہوگی ۔کھدائی فروری تک جاری رہے گی اور اس کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
چولستان کے سات قلعوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ڈویلپمنٹ منصوبوں کیلئے800 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ محکمے کا کام صرف پرانی عمارتوں کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ نئی دریافتوں کو سامنے لانا بھی ہے۔
کھدائی سے کئی پوشیدہ پہلو اجاگر ہوں گے، گندھارا تہذیب بارے1913سے وقفے وقفے سے کھدائی ہوتی رہی ہے جس میں قدیم بدھ مت خانقاہوں، اسٹوپوں اور مجسموں کے کئی اہم شواہد ملے۔
قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا۔ جہلم ٹلہ جوگیاں کو صوفی اور ہندو سنتوں کا قدیم مقام سمجھا جاتا ہے ، ان میں قلعہ دراوڑ سب سے نمایاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔