WE News:
2026-07-24@09:07:10 GMT

وفاقی حکومت کون سا نیا ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

وفاقی حکومت کون سا نیا ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہی ہے؟

وفاقی حکومت نے 213 ارب روپے کے جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی غرض سے وفاقی دارالحکومت میں نیا میونسپل ٹیکس عائد کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کیا ہے۔

انگریزی اخبار کے رپورٹر شہباز رانا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت فوری طور پر کم از کم 30 ارب روپے فراہم کرنے کے لیے بجٹ کے ہنگامی فنڈ استعمال کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ 3 سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کے تحت 1,000 بستروں پر مشتمل جدید سہولیات والا اسپتال تعمیر ہوگا جس میں مختلف سپر اسپیشلٹی سنٹرز آف ایکسیلنس (CoEs) قائم کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف سے منظوری اور متبادل ذرائع

وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس کی تجویز پیش کی ہے، جس پر فنڈ نے مزید تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ایک ہی وقت میں حکومت پانڈا بانڈز (Panda Bonds)، ضمنی گرانٹس، اور دیگر منصوبوں سے فنڈز منتقل کرنے جیسے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے سیلاب زدہ معیشت کا جائزہ، آئی ایم ایف مشن 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے تصدیق کی کہ ای سی این ای سی (ECNEC) نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو فنڈنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے متبادل ذرائع کا جائزہ لے گی۔

وزیر نے کہا کہ وہ منصوبے کو پی ایس ڈی پی (PSDP) سے ہٹ کر فنڈ کرنے کی سفارش کریں گے۔ حکومت پہلے ہی ابتدائی طور پر 3.

5 ارب روپے فراہم کر چکی ہے تاکہ جناح میڈیکل کمپلیکس کمپنی قائم کی جا سکے اور عملہ بھرتی کیا جا سکے۔

کم ہوتی ترقیاتی گنجائش

ذرائع کے مطابق وفاقی ترقیاتی فنڈنگ کا حجم چند سال قبل جی ڈی پی کے 3 فیصد کے مقابلے میں اب صرف 0.8 فیصد رہ گیا ہے۔ مختلف وزارتوں اور اداروں کی بڑھتی ہوئی فنڈنگ کی ضروریات کے باعث حکومت کو اس منصوبے کے لیے وسائل کا بندوبست کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت پانڈا بانڈز سے حاصل ہونے والی متوقع 21.5 ارب روپے کی رقم استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ یہ رقم موجودہ مالی سال کے لیے ایک کھرب روپے کے پی ایس ڈی پی بجٹ میں شامل سمجھی جائے۔

منصوبے کی تفصیلات

منصوبے کے مطابق جناح میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب 15 منزلہ عمارت پر مشتمل ہوگا۔

پہلا مرحلہ فنڈز کی فراہمی کے بعد 30 ماہ میں مکمل کیا جائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ 2 سال میں مکمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں آئی ایم ایف مشن ایک بار پھر سپریم کورٹ بار سے کیوں ملاقات کرنا چاہتا ہے؟

وزارتِ صحت نے تجویز دی ہے کہ فنڈنگ کے ذرائع میں پانڈا بانڈز، سرکاری اداروں کی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) شراکتیں، اور اسلام آباد میونسپل ٹیکس شامل ہوں۔ تاہم منصوبہ بندی کی وزارت کا کہنا ہے کہ اب تک ان ذرائع سے صرف اشارتی (indicative) رقوم بتائی گئی ہیں، کوئی حتمی عہد (firm commitment) موجود نہیں۔

پاکستان میں صحت کی سہولیات کی کمی

حکومت کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 10,000 افراد کے لیے صرف 5 اسپتال دستیاب ہیں، جب کہ بھارت میں یہ تعداد 16 اور خطے کے دیگر ممالک میں 9 سے 22 کے درمیان ہے۔

1985 کے بعد سے سرکاری اسپتالوں کی تعمیر میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جب کہ اسلام آباد کی آبادی 1984 میں 2.46 لاکھ سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 13 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جس سے صحت کی سہولیات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر جناح میڈیکل کمپلیکس آئی ایم ایف کر رہی ہے ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری