WE News:
2026-06-03@04:47:14 GMT

وفاقی حکومت کون سا نیا ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

وفاقی حکومت کون سا نیا ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہی ہے؟

وفاقی حکومت نے 213 ارب روپے کے جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی غرض سے وفاقی دارالحکومت میں نیا میونسپل ٹیکس عائد کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کیا ہے۔

انگریزی اخبار کے رپورٹر شہباز رانا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت فوری طور پر کم از کم 30 ارب روپے فراہم کرنے کے لیے بجٹ کے ہنگامی فنڈ استعمال کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ 3 سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کے تحت 1,000 بستروں پر مشتمل جدید سہولیات والا اسپتال تعمیر ہوگا جس میں مختلف سپر اسپیشلٹی سنٹرز آف ایکسیلنس (CoEs) قائم کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف سے منظوری اور متبادل ذرائع

وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس کی تجویز پیش کی ہے، جس پر فنڈ نے مزید تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ایک ہی وقت میں حکومت پانڈا بانڈز (Panda Bonds)، ضمنی گرانٹس، اور دیگر منصوبوں سے فنڈز منتقل کرنے جیسے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے سیلاب زدہ معیشت کا جائزہ، آئی ایم ایف مشن 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے تصدیق کی کہ ای سی این ای سی (ECNEC) نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو فنڈنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے متبادل ذرائع کا جائزہ لے گی۔

وزیر نے کہا کہ وہ منصوبے کو پی ایس ڈی پی (PSDP) سے ہٹ کر فنڈ کرنے کی سفارش کریں گے۔ حکومت پہلے ہی ابتدائی طور پر 3.

5 ارب روپے فراہم کر چکی ہے تاکہ جناح میڈیکل کمپلیکس کمپنی قائم کی جا سکے اور عملہ بھرتی کیا جا سکے۔

کم ہوتی ترقیاتی گنجائش

ذرائع کے مطابق وفاقی ترقیاتی فنڈنگ کا حجم چند سال قبل جی ڈی پی کے 3 فیصد کے مقابلے میں اب صرف 0.8 فیصد رہ گیا ہے۔ مختلف وزارتوں اور اداروں کی بڑھتی ہوئی فنڈنگ کی ضروریات کے باعث حکومت کو اس منصوبے کے لیے وسائل کا بندوبست کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔

حکومت پانڈا بانڈز سے حاصل ہونے والی متوقع 21.5 ارب روپے کی رقم استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ یہ رقم موجودہ مالی سال کے لیے ایک کھرب روپے کے پی ایس ڈی پی بجٹ میں شامل سمجھی جائے۔

منصوبے کی تفصیلات

منصوبے کے مطابق جناح میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب 15 منزلہ عمارت پر مشتمل ہوگا۔

پہلا مرحلہ فنڈز کی فراہمی کے بعد 30 ماہ میں مکمل کیا جائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ 2 سال میں مکمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں آئی ایم ایف مشن ایک بار پھر سپریم کورٹ بار سے کیوں ملاقات کرنا چاہتا ہے؟

وزارتِ صحت نے تجویز دی ہے کہ فنڈنگ کے ذرائع میں پانڈا بانڈز، سرکاری اداروں کی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) شراکتیں، اور اسلام آباد میونسپل ٹیکس شامل ہوں۔ تاہم منصوبہ بندی کی وزارت کا کہنا ہے کہ اب تک ان ذرائع سے صرف اشارتی (indicative) رقوم بتائی گئی ہیں، کوئی حتمی عہد (firm commitment) موجود نہیں۔

پاکستان میں صحت کی سہولیات کی کمی

حکومت کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 10,000 افراد کے لیے صرف 5 اسپتال دستیاب ہیں، جب کہ بھارت میں یہ تعداد 16 اور خطے کے دیگر ممالک میں 9 سے 22 کے درمیان ہے۔

1985 کے بعد سے سرکاری اسپتالوں کی تعمیر میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جب کہ اسلام آباد کی آبادی 1984 میں 2.46 لاکھ سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 13 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جس سے صحت کی سہولیات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر جناح میڈیکل کمپلیکس آئی ایم ایف کر رہی ہے ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان