اسلام آباد:

پاکستان نے آئی ایم ایف سے وفاقی دارالحکومت میں نیا ٹیکس لگانے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ 213 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے میڈیکل کمپلیکس کے لیے فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں۔

حکومت کو منصوبے کو 3 برس میں مکمل کرنے کے لیے مالی وسائل تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت متبادل کے طور پر بجٹ کے ہنگامی فنڈ سے کم از کم 30 ارب روپے فوری طور پر جاری کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ منصوبے کا آغاز کیا جا سکے۔

یہ میگا کمپلیکس ایک ہزار بستروں اور جدید طبی سہولتوں پر مشتمل ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کو تجویز دی ہے کہ اسلام آباد میں میونسپل ٹیکس لگا کر جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے لیے وسائل اکٹھے کیے جائیں۔

منصوبے میں مختلف ’’سینٹرز آف ایکسیلنس‘‘ کے تحت ایک ہزار بستروں پر مشتمل سہولت قائم کرنے کا خاکہ شامل ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست پر مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ فنڈ کا مشن 25 ستمبر کو اسلام آباد پہنچے گا اور 8 اکتوبر تک قیام کرے گا تاکہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط کے اجرا پر مذاکرات کر سکے۔

ذرائع کے مطابق اتحادی حکومت منصوبے کو تیز رفتاری سے 2028 کے وسط تک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ متبادل ذرائع میں ضمنی گرانٹس یا دوسرے منصوبوں کے فنڈز منتقل کرنا شامل ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تصدیق کی کہ ای سی این ای سی نے فنڈنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ تجویز دیں گے کہ منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے باہر فنڈ کیا جائے۔

حکومت نے ابتدائی طور پر 3.

5 ارب روپے فراہم کیے ہیں جو جناح میڈیکل کمپلیکس کمپنی کے قیام اور عملے کی بھرتی پر خرچ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت 76 ملین ڈالر (تقریباً 21.5 ارب روپے) کے پانڈا بانڈز کے ممکنہ منافع کو بھی منصوبے پر لگانے پر غور کر رہی ہے۔

تاہم وزارت خزانہ چاہتی ہے کہ یہ رقم موجودہ پی ایس ڈی پی کا حصہ بنے، نہ کہ اضافی فنڈنگ کا ذریعہ۔دستاویزات کے مطابق یہ کمپلیکس اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب 15 منزلہ عمارت پر مشتمل ہوگا۔

منصوبے کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے کے لیے 30 ماہ اور دوسرے کے لیے دو سال درکار ہوں گے۔

اسلام آباد کی آبادی 1984 میں 2.46 لاکھ سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 13 لاکھ ہو چکی ہے، جو 40 سال میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہے اور اس سے طبی سہولتوں کی شدید مانگ پیدا ہوئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسلام ا باد منصوبے کو ارب روپے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان