مدن سعودی کا خلیج عرب میں پہلی کثیر المنزلہ فیکٹری شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
سعودی اتھارٹی برائے صنعتی شہروں اور ٹیکنالوجی زونز مدن نے دمام کے پہلے صنعتی شہر میں اپنے منفرد منصوبے ’ملٹی اسٹوری فیکٹری‘ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
یہ خلیج عرب کے خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، اور یہ جدید مصنوعات فراہم کرنے کی حکمت عملی کے حصے کے طور پر آتا ہے جو مملکت میں صنعتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ماحول کو بہتر بناتا ہے۔
نیا منصوبہ پائیدار عمودی صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد صنعتی زمین کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھانا اور سرمایہ کاروں کے لیے لچکدار حل فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا شام حکومت کو ساڑھے 16 لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان
یہ عمارت 8 منزلوں پر مشتمل ہے اور 7,500 مربع میٹر سے زیادہ کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، اور اس میں 78 صنعتی یونٹس ہیں جن کا رقبہ 156 مربع میٹر اور 251 مربع میٹر کے درمیان ہے۔
اسے کاروباریوں اور چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس اختراعی تصور کا مقصد ایک مربوط صنعتی نظام بنانا ہے جو صنعتکاروں کی اگلی نسل کو بااختیار بنائے۔
یہ پروجیکٹ چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی میں معاونت کے لیے مدن کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک بڑا محرک ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے جن کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
اس پروجیکٹ کا مقصد الیکٹرونکس انڈسٹریز اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجیز کے علاوہ فوڈ، میڈیکل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹریز سمیت اہم شعبوں کی مدد کرنا ہے۔
مدن نے وضاحت کی کہ یہ معیاری منصوبے ایک سرکردہ عالمی صنعتی مرکز کے طور پر مملکت سعودی عرب کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں معاون ہیں۔
اس کے جدید انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک لاجسٹک لوکیشن سے مستفاد ہیں، نیز یہ اقدامات مملکت کی صنعتی تبدیلی کی قیادت کرنے اور دنیا بھر سے معیاری سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدن کے اہم کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی قطر پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
یہ بات قابل ذكر ہے کہ سعودی اتھارٹی برائے صنعتی شہروں اور ٹیکنالوجی زونز مدن اس وقت مملکت میں تقسیم کیے گئے 39 صنعتی شہروں کا اشراف کر رہا ہے۔
اس میں 9 ہزار سے زیادہ صنعتی، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کی سہولیات موجود ہیں، جن کی مجموعی سرمایہ کاری 463 بلین سعودی ریال سے زیادہ ہے۔
یہ 220 ملین مربع میٹر سے زیادہ کے ترقی یافتہ علاقے پر محیط ہے۔ یہ پرائیویٹ سیکٹر کے تیار کردہ شہروں اور صنعتی کمپلیکس کی لائسنسنگ اور اشراف بھی کرتا ہے، اور ان کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلیج عرب مدن مدن سعودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلیج عرب سرمایہ کاری مربع میٹر سے زیادہ کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔
یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔
دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘