موٹر سائیکل اور رکشوں کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ، عوام کا رجحان بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
پاکستان میں موٹر سائیکل اور رکشوں کی فروخت میں اگست 2025 کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، صرف اگست کے مہینے میں 1 لاکھ 48 ہزار یونٹس فروخت ہوئے — جو پچھلے سال کے مقابلے میں 42 فیصد اور گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ہے۔
مزید برآں، مالی سال 2026 کے ابتدائی دو مہینوں (جولائی-اگست) کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 73 ہزار یونٹس فروخت ہوئے، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔
فروخت میں اضافے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نمایاں اضافے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں افراطِ زر میں کمی، دیہی علاقوں میں موٹر سائیکل اور رکشوں کی مانگ میں اضافہ، گاڑیوں کے مقابلے میں دو پہیہ سواریوں کی سستی فنانسنگ شامل ہے۔
یہ گاڑیاں شہری اور نیم شہری علاقوں میں نہ صرف روزمرہ آمد و رفت بلکہ کاروباری مقاصد کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ سال 2025 کے ابتدائی مہینے سیلاب اور مہنگائی جیسے چیلنجز سے بھرپور تھے، لیکن تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ مالی سال 2026 میں بھی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مانگ مضبوط رہے گی۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی قیمتوں کا افورڈیبل ہونا اور سستی، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مقابلے میں
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔