کراچی: کورنگی مدینہ کالونی میں دلہا شادی کے دن پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
کراچی کے علاقے کورنگی مدینہ کالونی میں ایک نوجوان اپنی شادی کے روز پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت جہانزیب کے نام سے ہوئی ہے جس کی ایک روز قبل شادی تھی۔
اہل خانہ کے مطابق جہانزیب شادی کے روز شام پانچ بجے دلہا بننے کی تیاری کے لیے قریبی سیلون گیا تھا، تاہم وہ واپس نہ آیا۔ جہانزیب کا موبائل فون بھی گھر پر ہی موجود تھا۔ اس واقعے کی اطلاع اس کے بھائی وسیم نے زمان ٹاؤن تھانے کو دی۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جہانزیب کو اغواء کرلیا گیا ہے۔ وسیم کے مطابق جہانزیب ایک نجی فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے اور اپنی شادی کے حوالے سے بہت پُرجوش تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گمشدگی کی درخواست موصول ہوگئی ہے اور نوجوان کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایس ایچ او نفیس الرحمن کے مطابق اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور واقعے کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔
پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ اہل خانہ اپنے پیارے کی بازیابی کے لیے پریشان ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔