گلے کے انفیکشن ، امراض درد اور الرجی کی یہ دوائیں ہرگز نہ استعمال کریں! الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
لاہور: ڈریپ نے امراض معدہ، گلے اور فنگل انفیکشن ، امراض درد ، جوڑ و سوزش اور الرجی کی 17 ادویات کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ نے جعلی ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا، کارروائیوں کے دوران مختلف مارکیٹس سے جعلی ادویات کی نشاندہی کی گئی۔
اس حوالے سے ڈریپ نے بھی ریپڈ پراڈکٹ الرٹ جاری کردیا ہے، جس میں کہا ہے کہ پنجاب ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے 17 ادویات کے 18 بیچز کو جعلی قرار دیا ہے۔
الرٹ میں کہنا تھا کہ جعلی قرار دی گئی ادویات میں امراض معدہ، گلہ، فنگل انفیکشن، پروسٹیٹ، امراض نسواں، درد، جوڑوں کی سوزش، الرجی، نیوروپیتھی اور سکون آور گولیاں شامل ہیں۔
ڈریپ کے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ادویات مختلف نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈز کے نام پر تیار کی گئی ہیں اور ان کے لیبلز پر کراچی، لاہور اور فیصل آباد کے پتے درج ہیں۔
الرٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ بیچز غیر قانونی فیکٹریوں میں تیار کیے گئے اور مارکیٹ میں سپلائی کیے گئے، تاہم ان کے خام مال کی تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی معیار و افادیت واضح ہے، جس کے استعمال سے جان لیوا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ڈرگ ایکٹ 1976 کے سیکشن 3 کے تحت ان ادویات کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ ڈریپ نے ریگولیٹری فورس کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ سے فوری طور پر ان بیچز کو ضبط کیا جائے جبکہ ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز کو ہدایت دی گئی ہے کہ جعلی ادویات کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :