خیبر پختونخوا کے ورلڈ بینک منصوبے میں 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بڑا فراڈ
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ورلڈ بینک منصوبے میں 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بڑا فراڈ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
پشاور:(آئی پی ایس) خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے ایک سرکاری منصوبے سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی خردبرد کا بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے جس میں جعل سازی کے جدید طریقوں اور ایک سرکاری بینک کی ممکنہ ملی بھگت کے ذریعے رقم نکالی گئی۔
دستاویزات کے مطابق رقوم 3 جولائی 2025کو سرکاری اکاؤنٹ سے نکالی گئیں، حالانکہ صوبائی محکمہ خزانہ نے 25 جون 2025 کو تمام منصوبوں کے فنڈز منجمد کر دیے تھے جو نئے مالی سال 26-2025 کے لیے 24 جولائی 2025 تک بحال نہیں ہوئے تھے۔
پروجیکٹ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ چیک اتھارٹی لیٹر اور ریفرنس نمبر جعلی تھے جبکہ بینک نے تصدیق کے بغیر اتنی بڑی رقم جاری کردی ۔
اس صورتحال پر خیبر پختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (KP-HCIP) کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) نے سرکاری بینک کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا ہے۔
ایچ سی آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بینک انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ فراڈ کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے کرائی جائیں اور چوری شدہ رقم فوری طور پر واپس جمع کرائی جائے۔
دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے 26 ارب روپے کی لاگت سے ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پرعجیکٹ جاری ہے،اور اسی منصوبے کے اکاؤنٹ سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی خردبرد کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے 5 ستمبر 2025 کو بینک کو بھیجے گئے خط کے مطابق منصوبے کے “ریوالونگ فنڈ اسائنمنٹ اکاؤنٹ” (نمبر 0386004174006254) سے 3 جولائی کو پشاور کینٹ برانچ کے ذریعے تین چیکس فراڈ کے تحت کلیئر کیے گئے۔
رقم 1964028روپےایک ہی چیک نمبر کی تکرار مزید شکوک پیدا کرتی ہے جب کہ کل خردبرد کی گئی رقم 10کروڑ 60لاکھ 44ہزار روپے بنتی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ چیکس مبینہ طور پر جعلی بینک اتھارٹی لیٹرز کے ذریعے کلیئر کیے گئے، جن سب کا ایک ہی ریفرنس نمبر تھا۔
پی ایم یو نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ لیٹرز ’جعلی‘ ہیں اور نہ ہی پی ایم یو نے انہیں جاری کیا اور نہ ہی اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر نے ان کی توثیق کی۔ مزید یہ کہ جعل سازوں نے جعلی شیڈولز (نمبر 337 اور 338) بھی جمع کرائے جن پر اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر کے جعلی دستخط اور سرکاری مہر ثبت تھی۔
پی ایم یو کے خط میں بینک کی سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے ممکنہ فراڈ کو کامیاب بنایا۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر آصف شہزاد نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ پروجیکٹ کے عملے نے ہی یہ فراڈ بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو انہوں نے حالیہ مہینوں میں کسی نئی چیک بک کی درخواست دی اور نہ ہی کسی کو اس کی وصولی کا اختیار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ چیک بک انہوں نے کبھی دیکھی تک نہیں جس سے یہ جعلی چیکس جاری ہوئے، اس سے بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ یہ چیک بک کہاں سے آئی اور جعل سازوں تک کیسے پہنچی؟
پروجیکٹ ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ریوالونگ اکاؤنٹ سے فنڈز جاری کرنے کے لیے کئی سطحوں پر تصدیق ضروری ہے، خاص طور پر اتنی بڑی رقوم کے لیے۔
بینک کے ریجنل ایگزیکٹو آپریشن توقیراحمد نے جنگ کو بتایاکہ شکایت موصول ہو چکی ہے اور انکوائری جاری ہے، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ بینک نے صرف چیکوں کو کلیئر کیا ہے جب کہ ایک نجی بینک سے رقوم نکالی گئی ہیں، انکوائری ابتدائی سطح پر ہے تاہم اس گھپلے میں پروجیکٹ کے اہلکاروں کی ملی بھگت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب کے بعد سیلاب سندھ میں زور پکڑنے لگا، گڈوبیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ، اونچے درجےکا سیلاب نیپال میں معمولاتِ زندگی بحال: عارضی سیٹ اپ سے قبل فوجی سربراہ کی ملاقات ایشیا کپ،پاکستان کا عمان کو جیت کیلئے 161رنز کا ہدف سیلاب بھی رکاوٹ نہ بن سکا، دولہا کشتی میں دلہن لے آیا پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ، علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی صدرِ مملکت آصف زرداری چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے وزارت مواصلات میں 78ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کروڑ 60 لاکھ روپے خیبر پختونخوا
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
کراچی(نیوزڈیسک) عالمی و ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ ہو گیا۔
آل پاکستان جیمز اینڈجیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج پاکستانی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کا بھاؤ 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے ہو گیا۔
اسی طرح ملکی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل 10 گرام سونے کے بھاؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت 3 ہزار 944 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب بین الاقوامی منڈی میں بھی سونا مزید مہنگا ہو گیا، عالمی صرافہ مارکیٹوں میں آج سونے کے نرخوں میں 46 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہوا جس کے بعد عالمی صرافہ بازاروں میں فی اونس سونا 4 ہزار 494 ڈالر سے بڑھ کر 4 ہزار 540 ڈالر کا ہو گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 400 روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کا بھاؤ 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے کی سطح پر آگیا تھا۔
مزید پڑھیں۔اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا