قطر پر حملے کے باوجود اسرائیل امریکا تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناخوش ہیں لیکن اس صورتحال سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور رہیں گے۔
روبیو کے مطابق کئی ممالک قطر میں پیش آنے والے واقعے پر ناراض ہیں اور امریکا نے بھی اس سلسلے میں ہونے والی میٹنگ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ یرغمالیوں کی رہائی اور تنازع کے خاتمے کے خواہاں ہیں تاکہ اگلے مرحلے کی طرف بڑھا جا سکے، جو کہ غزہ کی تعمیر نو اور وہاں سکیورٹی کی فراہمی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم سے قطر پر حملے کے اثرات پر بات کریں گے۔ تاہم انہوں نے غزہ پر اسرائیلی حملے میں امریکی حمایت کے سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا اور اسرائیل کا سخت ردعمل انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔