ایشیا کپ کا ہائی وولٹیج ٹاکرا: پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے چھٹے میچ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا۔
ایشیا کپ کے ہائی وولٹیج ٹاکرے کا شائقین کرکٹ کو بے صبری سے انتظار ہے، میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا۔
???????????????? ???????????? ????????????????: ???????????? ????????????????????
Fans queueing in for India Vs Pakistan at Dubai International Cricket Stadium.
⏱️: 8:00 PM
????: Dubai#AsiaCup2025 | #INDvsPAK | #AsiaCup | #IndiaVsPakistan pic.twitter.com/lYAVylros0
— All India Radio News (@airnewsalerts) September 14, 2025
ایک طرف جہاں ماہرین بھارت کو ایونٹ کا مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں، وہیں پاکستان سہ فریقی سیریز کے فائنل اور ایشیا کپ کے افتتاحی مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کر کے سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بمقابلہ بھارت: 5 پہلوان جو دنگل کا رنگ بدل سکتے ہیں
بھارت کے سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے مجریکر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اسپن بولنگ یونٹ بھارتی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2014 کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کھیلے گئے آخری 8 میچز میں سے 8 میں وہ ٹیم جیتی ہے جس نے پہلے گیند بازی کی۔
دبئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے تینوں ٹی20 میچز میں بھی یہی رجحان رہا کہ پہلے بولنگ کرنے والی ٹیم نے میدان مارا۔
پاکستان نے ٹی20 ورلڈکپ 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے اور ایشیا کپ 2022 میں 5 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
پاک بھارت اہم میچ، ایشیا کپ میں اب تک کس کا پلڑا بھاری ہے؟ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز میچ میں آج بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں مدمقابل ہیں۔
روایتی حریفوں کے درمیان یہ مقابلہ ہمیشہ کی طرح شائقین کے لیے پرجوش ماحول لے کر آیا ہے اور اس بار دونوں ٹیمیں مضبوط بولنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔
اب تک ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں 19 بار آمنے سامنے آچکی ہیں، جن میں بھارت نے 10 میچ جیتے جبکہ پاکستان نے 6 بار فتح حاصل کی۔ 3 میچز بے نتیجہ رہے۔ دونوں ٹیموں کا آخری ٹکراؤ ایشیا کپ 2022 میں دبئی میں ہوا تھا۔
ایشیا کپ کے اعزاز کی دوڑ میں بھارت اب تک 8 مرتبہ فاتح بن چکا ہے جبکہ پاکستان صرف 2 بار ٹورنمنٹ جیت سکا ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں بڑی اسکرینیں نصب، شائقین پرجوشایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان آج ہونے والے میچ نے کرکٹ مداحوں میں جوش و خروش کو دوچند کر دیا ہے۔
ملک بھر میں شائقین کرکٹ کی دلچسپی عروج پر پہنچ گئی ہے، جس کے پیشِ نظر مختلف مقامات پر بڑی اسکرینز نصب کردی گئی ہیں تاکہ عوام براہ راست میچ سے لطف اندوز ہوسکیں۔
ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیریسٹر ارسلان اسلام شیخ نے پاک بھارت کرکٹ میچ کو معرکہ قرار دے دیا اج پاکستان اور بھارت کا تاریخی میچ جناح میونسپل اسٹیڈیم میں لائیو دکھایا جائے گا pic.twitter.com/xe09YhJ2t0
— Sukkur House (@SukkurHouse) September 14, 2025
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے کیماڑی کے ساحل پر واقع پورٹ گرینڈ میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں شائقین بڑی اسکرین پر میچ دیکھنے کے ساتھ ساتھ تفریحی ماحول اور ذائقہ دار کھانوں سے بھی محظوظ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ 2025: پاکستان سے ہار کا خوف، بھارتی پوجا پاٹ پر اتر آئے
اس کے علاوہ متعدد نجی تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر بھی میچ براہ راست دکھانے کے لیے اسکرینز لگائی گئی ہیں، جس سے شائقین کو اجتماعی ماحول میں کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایشیا کپ بولنگ اٹیک بیٹنگ پاک بھارت ٹاکر پاکستان بھارت میچ سلمان آغا ہائی وولٹیج ٹاکرا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ بولنگ اٹیک بیٹنگ پاک بھارت ٹاکر پاکستان بھارت میچ ہائی وولٹیج ٹاکرا وی نیوز ایشیا کپ بھارت کے کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔